اظہارِ رائے کی مکمل آزادی کا ترجمان

نقیب اللہ قتل: ’پولیس مقابلہ بادی النظر میں منصوبے کے تحت کیا گیا‘، ضمنی چالان

راؤ انوار کی پھانسی کا مطالبہ, ملیر کینٹ میں میں واقع رہائش گاہ سب جیل قرار

35

کراچی کے علاقے شاہ لطیف ٹاؤن میں جعلی پولیس مقابلے میں دیگر 3 شہریوں کے ساتھ قتل کیے جانے والے نقیب اللہ محسود کے کیس کی انسداد دہشت گردی عدالت میں سماعت ہوئی۔

جہاں انسداد دہشت گردی عدالت کے جج کو بتایا گیا کہ نقیب اللہ قتل کیس کے مرکزی ملزم سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار جیل جانے کے بعد بیمار پڑ گئے۔

جیل حکام نے راؤ انوار کا میڈیکل سرٹیفکیٹ عدالت میں پیش کیااور موقف اختیار کیا کہ گزشتہ روز ڈاکٹروں نے چیک اپ کیا تھا، جس کے مطابق راؤ انوار علیل ہیں اور وہ عدالت میں پیش نہیں ہوسکتے۔

راؤ انوار کی بیماری سے متعلق عدالت میں پیش کیے گئے میڈیکل سرٹیفکیٹ کے مطابق ملزم کو متعدد امراض لاحق ہیں۔

جس پر جج نے جیل حکام کو ہدایات جاری کیں کہ کیس کی آئندہ سماعت پر ملزم راؤ انوار کی حاضری یقینی بنائی جائے۔

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ اگر ملزم کو پیش نہ کیا گیا تو میڈیکل سرٹیفکیٹ جاری کرنے والے ڈاکٹر کو بھی طلب کیا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب جیل حکام نے راؤ انوار کے شریک ملزم ڈی ایس پی قمر اور دیگر ملزمان کو عدالت میں پیش کیا۔

ادھر نقیب اللہ قتل کیس کے تفتیشی افسر ایس ایس پی رضوان کی عدم پیشی پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا اور انہیں فوری طور پر طلب کرلیا۔

عدالت نے حکم دیا کہ ایس ایس پی رضوان فوری عدالت میں پیش ہوں۔

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ تفتیشی افسر نے گزشتہ سماعت پر مفرور ملزمان کی گرفتاری کی مہلت طلب کی تھی، بتایا جائے مفرور ملزمان کی گرفتاری کے لیے کیا اقدامات اٹھائے گئے۔

علاوہ ازیں پولیس افسر کی جانب سے ضمنی چالان جمع کرانے کے لیے مہلت طلب کرنے پر سماعت ملتوی کردی گئی۔

عدالت نے نقیب اللہ قتل کیس کی سماعت 14 مئی تک کے لیے ملتوی کردی۔

واضح رہے کہ گذشتہ سماعت پر مدعی مقدمہ کے وکیل نے راؤ انوار کو بغیر ہتھکڑی کے پیش کرنے پر اعتراض اٹھایا تھا۔

ضمنی چالان جے آئی ٹی کی روشنی میں پیش کیا، تفتیشی آفسر

بعد ازاں نقیب اللہ قتل کیس کے تفتیشی افسر انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش ہوئے۔

عدالت میں پیش ہونے کے بعد ایس ایس پی رضوان نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ تفتیش مکمل کرکے ضمنی چالان پراسیکیوٹر کے روبرو پیش کردیا ہے اور پراسیکیوٹر ضمنی چالان کی اسکروٹنی کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پراسیکیوٹر کی جانب سے اسکروٹنی کے بعد ضمنی چالان عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

پولیس آفیسر نے بتایا کہ تفتیش ملنے کے بعد ازسر نو تحقیقات کیں اور تحقیقات میں سب کے کردار کو پوری طرح واضح کیا جبکہ ضمنی چالان جے آئی ٹی کی روشنی میں پیش کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ مقدمہ صرف راؤ انوار کا نہیں جبکہ انکوائری کمیٹی اور تحقیقات سے پولیس مقابلہ جعلی ثابت ہوا تھا۔

ضمنی چالان کے حوالے سے مزید تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ڈی این اے اور الیکٹرونک شہادتوں کا تجزیہ سب کچھ ضمنی چالان میں واضح کردیا ہے۔

اس موقع پر ایک صحافی نے سوال کیا کہ تحقیقات میں راؤ انوار کی جائے وقوع پر موجودگی ثابت ہوئی؟ جس پر تفتیشی افسر نے کہا کہ راؤ انوار کے علاوہ 14 ملزمان ہیں سب کا کردار واضح کردیا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ جو ملزم جس گناہ میں ملوث پایا گیا اس کا کردار بیان کردیا ہے اور مفرور ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔

بادی النظر میں پولیس مقابلہ منصوبے کے تحت کیا گیا، ضمنی چالان

بعد ازاں پراسیکیوٹر نے نقیب اللہ قتل کیس کا ضمنی چالان انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش کردیا، جسے عدالت نے منظور کرلیا۔

ضمنی چالان میں بتایا گیا کہ جیو فینسنگ رپورٹ کے مطابق ملزم راؤ انوار جائے وقوع پر موجود تھے، ملزم راؤ انوار 2 بج کر 45 منٹ پر جائے وقوع پر پہنچے تھے اور راؤ انوار کا جائے وقوع پر موجود ہونا ثابت ہوتا ہے۔

ضمنی چالان میں مزید بتایا گیا کہ جیو فینسنگ رپورٹ کے مطابق تمام ملزمان ایک دوسرے سے رابطے میں تھے اور بادی النظر میں پولیس مقابلہ منصوبے کے تحت کیا گیا۔

تفتیشی افسر نے چالان میں واضح کیا کہ ملزم راؤ انوار مذکورہ واقعے میں اپنے ملوث نہ ہونے کے بارے میں کوئی ثبوت پیش نہیں کرسکے جبکہ ملزم راؤ انوار دوران تفتیش ٹال مٹول سے کام لیتے رہے اور ملزم مسلسل حقائق بتانے سے بھی گریز کرتے رہے۔

ضمنی چالان میں بتایا گیا کہ ڈی این اے رپورٹ کے مطابق ملزمان کو 1 سے 5 فٹ کے فاصلے سے گولیاں ماری گئیں، تفتیشی افسر نے ضمنی چالان میں عدالت کو بتایا کہ تفتیش کے مطابق ملزم راؤ انوار جھوٹے پولیس مقابلے کا مرکزی کردار ہے اور اس واقعے کے بعد سابق ایس ایس ملزم راؤ انوار، ڈی ایس پی قمر احمد سمیت 12 ملزمان گرفتار ہیں۔

عدالت کو مزید بتایا گیا کہ اے ایس آئی گدا حسین سب انسپکٹر شعیب محمد شعیب عرف شعیب شوٹر سمیت 13 سے زائد ملزمان تاحال مفرور ہیں۔

راؤ انوار کی پھانسی کا مطالبہ

اس سے قبل راؤ انوار کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش نہ کیے جانے پر عدالت کے باہر جرگہ عمائدین نے احتجاج کیا اور ’قاتل، قاتل راؤ انوار قاتل‘ کے نعرے لگائے جبکہ کیس کے مرکزی ملزم راؤ انوار کی پھانسی کا مطالبہ کیا۔

نقیب اللہ کے وکیل نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ ہائی پروفائل کیسز میں ملزمان کو بنا ہتکھڑی لایا گیا، اس سے پہلے بھی دکھ کا اظہار کرچکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ راؤ انوار کو پروٹوکول سے لانے سے انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوتے، سماعت کے موقع پر ہم موجود ہیں جبکہ پشاور سے نقیب اللہ کے رشتے دار آئے ہیں اور ملزم کو ایک عام سی رپورٹ پر عدالت نہ لانے کا بہانہ بنادیا گیا۔

وکیل کا کہنا تھا کہ پچھلی پیشی کی وڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ وہ کتنے ہشاش بشاش تھے جبکہ عدالت نے اگلی پیشی پر سختی سے نمٹنے کا عندیہ دے دیا ہے۔

اس موقع پر احتجاج کرنے والوں نے اعلان کیا کہ اگر یہاں سے انصاف نہ ملا تو اعلی عدالتوں تک جائیں گے۔

نقیب اللہ کے اہل خانہ کا کہنا تھا کہ اب اگر راؤ کو ہتھکڑی میں نہیں لایا گیا تو پورا ملک بند کردیں گے، ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اللّہ کے بعد عدالتوں سے انصاف کی امید ہے۔

ملیر کینٹ میں راؤ انوار کی رہائش گاہ سب جیل قرار

دوسری جانب نقیب اللہ قتل کیس کے مرکزی ملزم راؤ انوار پر خصوصی نوازشوں کا سلسلہ جاری ہے اور ملیر کینٹ میں ان کی رہائش گاہ کو سب جیل قرار دینے کا جیل حکام کا نوٹیفکیشن انسداد دہشت گردی عدالت کو موصول ہوگیا۔

عدالت کو موصول ہونے والے نوٹیفکیشن کے مطابق ملیر کینٹ میں راؤ انوار کی رہائش گاہ کو سب جیل قرار دینے کے لیے خصوصی احکامات جاری کیے گئے ہیں۔

یاد رہے کہ 21 اپریل 2018 کو انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ملزم راؤ انوار کو سینٹرل جیل بھیجنے کا حکم دیا تھا۔

تاہم عدالت کو موصول ہونے والے نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ عدالتی احکامات کے فوری بعد محکمہ داخلہ نے فون کے ذریعے آئی جی جیل خانہ جات کو احکامات جاری کیے اور بتایا کہ راؤ انوار کو سیکیورٹی خدشات لاحق ہیں اور بتایا کہ ملیر کینٹ کو سب جیل قرار دیا جائے۔

نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ محکمہ داخلہ کے ٹیلی فون پر ملیر کینٹ کو سب جیل قرار دیا گیا اور راؤ انوار کو سینٹرل جیل کے بجائے ملزم کی رہائش گاہ میں رکھا گیا ہے۔

نقیب اللہ محسود کا قتل

خیال رہے کہ جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے 27 سالہ نقیب اللہ کو گزشتہ ہفتے ایس ایس پی راؤ انوار کی جانب سے مبینہ پولیس مقابلے میں قتل کردیا گیا تھا۔

پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ شاہ لطیف ٹاؤن کے عثمان خاص خیلی گوٹھ میں مقابلے کے دوران 4 دہشت گرد مارے گئے ہیں، جن کا تعلق کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے تھا۔

ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کی جانب سے اس وقت الزام لگایا گیا تھا کہ پولیس مقابلے میں مارے جانے والے افراد دہشت گردی کے بڑے واقعات میں ملوث تھے اور ان کے لشکر جنگھوی اور عسکریت پسند گروپ داعش سے تعلقات تھے۔

اس واقعے کے بعد نقیب اللہ کے ایک قریبی عزیز نے پولیس افسر کے اس متنازع بیان کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ مقتول حقیقت میں ایک دکان کا مالک تھا اور اسے ماڈلنگ کا شوق تھا۔

نقیب اللہ کے قریبی عزیز نے بتایا تھا کہ رواں ماہ کے آغاز میں نقیب اللہ کو سہراب گوٹھ پر واقع کپڑوں کی دکان سے سادہ لباس افراد مبینہ طور پر اٹھا کر لے گئے تھے جبکہ 13 جنوری کو پتہ چلا تھا کہ اسے مقابلے میں قتل کردیا گیا۔

انہوں نے بتایا تھا کہ مقتول اس سے قبل بلوچستان میں حب چوکی پر ایک پیٹرول پمپ پر کام کرتا تھا اور اس کے کسی عسکریت پسند گروپ سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

واضح رہے کہ 19 جنوری کو چیف جسٹس سپریم کورٹ میاں ثاقب نثار نے کراچی میں مبینہ طور پر جعلی پولیس مقابلے قتل کیے جانے والے نقیب اللہ محسود پر از خود نوٹس لیا تھا۔

جس کے بعد مذکورہ کیس کی متعدد سماعتیں ہوئیں جن میں سپریم کورٹ نے راؤ انوار کو پولیس حکام کے پیش ہونے کا موقع بھی دیا تاہم 21 مارچ 2018 کو ایس ایس پی ملیر راؤ انوار عدالت عظمیٰ میں پیش ہوئے اور سماعت کے بعد انہیں گرفتار کرلیا گیا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.