اظہارِ رائے کی مکمل آزادی کا ترجمان

مُلک کے بیشتر علاقوں میں بجلی کا بڑا بریک ڈاؤن

خیال رہے کہ رواں ماہ ملک میں یہ بجلی کا دوسرا بڑا بریک ڈاؤن ہے، اس سے قبل یکم مئی 2018 کو نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی (این ٹی ڈی سی) کی اہم ٹرانسمیشن لائن ٹرپ ہونے سے ملک میں بجلی کا بڑا بحران پیدا ہوگیا تھا

تربیلا، منگلا اور دیگر پاور پلانٹس میں فنی خرابی کے باعث ملک میں ایک مرتبہ پھر بجلی کا بڑا بریک ڈاؤن سامنے آیا ہے۔

بجلی کے بریک ڈاؤن سے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، صوبہ پنجاب، صوبہ خیبرپختونخوا اور آزاد کشمیر کے متعدد علاقوں میں بجلی کی فراہمی منقطع ہوگئی۔

اس حوالے سے ترجمان پاور ڈویژن نے یہ دعویٰ کیا کہ بجلی کے بریک ڈاؤن سے سندھ اور بلوچستان کے علاقے متاثر نہیں ہوئے تاہم پاور پلانٹس میں خرابی کے باعث دیگر علاقوں میں بجلی کی فراہمی متاثر ہے۔

اسلام آباد میں وزارت بجلی میں کنٹرول روم کا ایک منظر

ترجمان کے مطابق پاور پلانٹس میں خرابی سے 4 ہزار میگا واٹ بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی تاہم ترجمان نے دعویٰ کیا کہ تربیلا، منگلا اور دیگر پلانٹس سے بجلی بحال کردی گئی ہے جبکہ بجلی کی فراہمی پر کام جاری ہے۔

پاور ڈویژن کے ترجمان کے مطابق ملک میں بجلی کی مجموعی پیداوار 12 ہزار میگا واٹ تک پہنچ چکی ہے اور اس وقت سیکریٹری پاور ڈویژن اور دیگر بجلی کی فراہمی کی نگرانی کر رہے ہیں۔

دوسری جانب بجلی کے بریک ڈاؤن کے باعث اسلام آباد میں واقع پارلیمان ہاؤس کو بجلی کی فراہمی بھی متاثر ہوئی تاہم پارلیمان کے کچھ فلورز کو متبادل ذرائع سے بجلی کی فراہمی جاری ہے۔

اس حوالے سے وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کا کہنا تھا کہ بجلی کے بریک ڈاؤن کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کی جائیں گی کیونکہ اس طرح کا واقعہ پہلے بھی رونما ہوچکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں کچھ دیر میں بجلی بحال ہوجائے گی جبکہ بجلی بحران سے متعلق وزارت کے ترجمان کی جانب سے بیان دے دیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ رواں ماہ ملک میں یہ بجلی کا دوسرا بڑا بریک ڈاؤن ہے، اس سے قبل یکم مئی 2018 کو نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی (این ٹی ڈی سی) کی اہم ٹرانسمیشن لائن ٹرپ ہونے سے ملک میں بجلی کا بڑا بحران پیدا ہوگیا تھا۔

اس ٹرانسمیشن لائن کے ٹرپ ہونے سے سسٹم سے 5 ہزار میگاواٹ سے زائد بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی تھی، جس کے باعث بجلی کا شارٹ فال 6 ہزار میگاواٹ سے تجاوز کرگیا تھا۔

شارٹ فال میں اضافے کے ساتھ ہی بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں نے لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ فیڈرز پر بھی 6 سے 8 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کا آغاز کردیا۔

بریک ڈاؤن کی وجہ سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا

واضح رہے کہ موسم کی تبدیلی اور درجہ حرارت میں اضافے کے باعث بجلی کی طلب بھی بڑھ جاتی ہے، تاہم نظام میں خرابی کے باعث آئے روز بریک ڈاؤن ہوجاتا ہے۔

تاہم وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور پاکستان مسلم لیگ(ن) کے تاحیات قائد نواز شریف کی جانب سے ملک میں بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم کرنے کا دعویٰ کیا جاتا رہا ہے لیکن اس کے باوجود ملک میں لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے۔

وزیر اعظم کی جانب سے اپنی ہر تقریر میں ملک میں بے شمار بجلی منصوبوں کی بات کی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ سسٹم میں کئی ہزار میگا واٹ بجلی شامل کرلی گئی، تاہم اس کے باوجود گرمی کی شدت بڑھتے ہی ملک بھر میں لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ نہ صرف بڑھ جاتا ہے بلکہ غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ اور تکنیکی فالٹ میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.