اظہارِ رائے کی مکمل آزادی کا ترجمان

دوسری عالمی جنگ میں استمعال ہونے والا بم ناکارہ کرنے میں ناکامی پر 9 ہزار افراد نقل مکانی کرنے پر مجبور

واضح رہے کہ فروری 1945میں ڈریسڈن میں برطانیہ اور امریکہ کی بمباری میں 25ہزار افراد مارے گئے تھےجس سے 33کلو میٹر کے علاقے میں آگ بھڑک اٹھی تھی اور شہر تباہ ہوکر کھنڈر میں تبدیل ہوگیا تھا

5

جرمنی کے شہر ڈریسڈن میں دوسری عالمی جنگ کے ایک بم کو ناکارہ بنانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق بم منگل کی شام کو مرکزی ڈریسڈن میں ترقیاتی کام کے دوران ملا تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بم250کلو گرام وزنی ہے جسے ناکارہ بنانے کی پہلی کوشش گزشتہ روز کی گئی جوناکام ثابت ہوئی اور نتیجے میں ایک چھوٹا دھماکہ ہوا اور علاقے میں آگ لگ گئی۔

حکام کا کہنا ہے کہ 9 ہزار افراد کو علاقے سے باہر نکال لیا گیا ہے جن میں زیادہ تر بزرگ افراد شامل ہیں۔ تمام افراد نے 2راتیں گھروں سے باہر گزاریں جبکہ بم پھٹنے کے خدشات پر ڈریسڈن ایئرپورٹ پر تمام فلائٹس منسوخ کردی گئی ہیں۔

حکام نے مزید بتایا کہ بم جنگ عظیم دوئم میں برطانوی اور امریکی اتحادیوں نے فضائی حملے میں بمباری کے دوران جرمن شہر پر برسائے تھے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکے کے خدشات کے باعث سائٹ کے ارد گرد سخت سیکورٹی برقرار رکھی ہے جبکہ فی الحال ایک فائر فائٹر روبوٹ کی مدد سے بم پر ٹھنڈا پانی ڈالا جارہا ہے تاکہ بم ڈسپوزل حکام بم کو آسانی کی ناکارہ بنا سکیں۔

واضح رہے کہ فروری 1945میں ڈریسڈن میں برطانیہ اور امریکہ کی بمباری میں 25ہزار افراد مارے گئے تھےجس سے 33کلو میٹر کے علاقے میں آگ بھڑک اٹھی تھی اور شہر تباہ ہوکر کھنڈر میں تبدیل ہوگیا تھا۔

نازی جرمنی کے خلاف اس اتحادی فضائی مہم میں ہزاروں بم گرائے گئے جس میں سے معتدد بم پھٹے ہی نہیں اور ابھی بھی جرمی کے کئی شہروںترقیاتی کاموں کےدوران ایسے بم کا پتہ چلتا ہے۔

حال ہی میں مرکزی برلن میں برطانوی جنگی زمانے کے بم کو ناکارہ بنانے کے لیے 10ہزار افراد کو نکال کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا تھاجس میں بم کو ناکارہ بنانے کا آپریشن کامیاب رہا تھا۔


جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.