اظہارِ رائے کی مکمل آزادی کا ترجمان

کارگِل ایک احمقانہ آپریشن تھا: سابق آئی ایس آئی سربراہ اسد دُرانی کا دعویٰ

پاکستان اور بھارت کے سابق انٹیلی جنس سربراہوں کے حیران کن انکشافات

30

سابق ڈائریکٹرجنرل(ڈی جی) انٹرسروسز انٹلیجنس (آئی ایس آئی) لیفٹیننٹ جنرل اسد درانی دعویٰ کرتے ہیں کہ کارگل سابق فوجی آمر پرویز مشرف کے دماغ پر چھایا ہوا تھا اور یہ ایک احمقانہ آپریشن تھا۔ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اس کے بارے میں نواز شریف بہت کم جانتے تھے وہ سب کچھ نہیں جانتے تھے لیکن انھوں نے اسے جاری رکھنے کا کہا تھا، لہذا انھیں سیاسی ذمہ داری لینی پڑے گی۔ سابق ڈی جی آئی ایس آئی نے را کے سابق سربراہ اے ایس دلت کے ساتھ ملکر لکھی گئی اپنی نئی کتاب میں حیران کن انکشافات کیےہیں۔

سابق ڈی جی آئی ایس آئی نے بھارت اور پاکستان سے متعلق تقریباًہر معاملے پر بات کی ہے۔ جنرل(ر) اسد درانی دعویٰ کرتے ہیں کہ کارگل آپریشن کے بعد مشرف دباؤ میں تھے اورجانتے تھے کہ نواز شریف انھیں برطرف کردیں گے۔ لہذا انھوں نے ایک ہنگامی منصوبہ تیار کیا۔ جنرل (ر)درانی کے مطابق کارگل آپریشن بھارتی وزیراعظم واجپائی کے لاہور دورے کے بعد کیاگیاتھا۔ واجپائی کے اقدام سے بھارت کو فائدہ ہوا تھا کیونکہ ہر کوئی کارگل کیلئے پاکستان کو مودرِ الزام ٹھرارہاتھاجو ہر طرح سے ایک احمقانہ آپریشن تھا۔ بطور ٹو اسٹار ڈی جی ایم او انھوں نے بینظیرکے دوسرے دورِ حکومت میں ایسا کرنے کا مشورہ دیاتھا۔ لہذا انھوں نے کہا،’وزیراعظم، ہم یہ کرسکتے ہیں،‘ جواب میں انھوں نے کہا، ’’شاید تم یہ کرسکتے ہولیکن سیاسی طورپر یہ پائیدار نہیں ہے۔

جنرل درانی کہتے ہیں،’’‘ جب وہ آرمی چیف بنے توانھوں نے کہاکہ نیوکلئیرتجربات کے بعد پاکستان آپریشن کیلئےبہترپوزیشن میں ہے۔‘‘ جنرل درانی کے مطابق، اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف اس آپریشن کے بارے میں بہت کم جانتے تھےتاہم انھوں نے مشرف کو آگےبڑھنے کا کہا۔ لہذا وہ کہتے ہیں کہ وہ انھیں شک کافائدہ دیں گے۔‘‘ باقی دنیانے کس طرح اُس کی غیرذمہ داری پر ردعمل ظاہرکیا۔ غالباً انھوں نے بھارت کے مضبوط ردِ عمل کا بھی غلط اندازہ لگایا۔ واجپائی جلد الیکشن کروارہے تھے، لہذا اسے نظرانداز کرنےسے انھیں بھاری قیمت چکانی پڑتی۔ صرف چند لوگ منصوبے سے آگاہ تھے۔ جنرل درانی کہتے ہیں، ’’نواز شریف مکمل نہیں جانتے تھے، بہت کم جانتے تھے لیکن انھوں نے جاری رکھنے کا کہاتھا، لہذا انھیں سیاسی ذمہ داری لینی ہوگی۔ میں انھیں شک کا فائدہ دیتاہوں کہ انھیں منصوبے کے بارے میں مکمل نہیں پتہ تھا۔ انھوں نے سوچا ہوگا کہ صرف تھوڑا سا علاقہ حاصل کیاجائےگا۔‘‘

جنرل(ر)اسد کاماننا ہے کہ مشرف نے نیوکلئیرائزیشن تھیوری کا غلط اندازہ لگایاکہ ایٹمی طاقت بننے کے بعد کشیدگی نہیں بڑھے گی۔ جنرل(ر) درانی کہتے ہیں،’’جوہری استثنیٰ پر اُن کی دلیل: کہ جوہری طاقت بننے کے بعد ہمیں کافی چیزوں سے چھٹکارامل سکتا ہے۔ بے شک ان سے جو چیز غلط ہوئی وہ یہ تھی کہ اگر تم یہ چیزیں کرتے ہوتو ایٹمی جنگ نہیں ہوسکتی لیکن تم پرلاپروا اور بے وقوف ہونے کا الزام لگ سکتاہے۔ کہ اس یقین کے ساتھ کہ ایٹمی جنگ نہ ہونےکاامکان 95 فیصد ہےاور آپ ایٹمی جنگ کا خطرہ پیدا کررہے ہو۔ لیکن 5فیصد کاکیا؟‘‘ جنرل(ر) درانی دعویٰ کرتے ہیں کہ ناکام آپریشن کے بعد جنرل مشرف پر کافی دباؤ تھا اور ایک دن انھوں نے مجھے مشورے کیلئے بلایا۔ ’’ اگست میں ہم نے ملاقات کی۔ مشرف نے مجھے اپنے آفس بلایا اور کہا کارگل کی ناکامی پر حکومت فوج کو مودرِ الزام ٹھرانے پر تلی ہوئی ہے۔ میں نے کہا ٹھیک ہےتو کیاکریں؟ انھوں نے کاکہا وہ صرف میری رائے چاہتے ہیں کہ کیا ہوگا۔ میں نے کہا، اگر میں نواز شریف کو جانتا تو وہ آپ کے ساتھ اچھا محسوس نہیں کرے گابالکل ویسے ہی جس طرح وہ بیگ، آصف نواز،اور حتیٰ کہ جہانگیرکرامت کےساتھ تھے جو بالکل فرینڈلی آرمی چیف، پیشہ ورانہ مضبوط اور جو اپنے کام سے کام رکھتے تھے۔ حتیٰ کہ 1998میں بھارتی جوہری تجربات کے بعد کرامت نے صرف اتنا کہاتھا، وزیراعظم صاحب، فوج کایہ خیال ہے کہ آپ کو سیاسی اور معاشی نقصان کے مدِ نظررکھنا ہوگا۔ لیکن اُن کے ساتھ بھی اچھا نہیں ہوا۔ ان کی ریٹائرمنٹ سے تین ماہ قبل انھوں نے تلخ ہونے کی بجائے استعفیٰ دے دیا۔ لہذا میں نے مشرف کوبتایا آپ کے ساتھ بھی نہیں چل سکے گا۔ وہ آپ سے نجات حاصل کرنے کیلئے موقع تلاش کریں گے۔ لیکن بغاوت کیلئے یہ مناسب وقت نہیں ہے۔ حتیٰ کہ سیاسی طورپرغیرمستحکم ممالک بھی ایک جمہوری چہرہ رکھتے ہیں۔‘‘ لہذا آگے بڑھو اور اگلے قدم کے بارے میں سوچو۔ یہاں میں اٹھ گیا۔ یہ واضح تھا کہ مشرف بغاوت نہیں کرسکتا تھا۔ سابق ڈی جی آئی ایس آئی کےمطابق کارگل آپریشن کے بعد مشرف جانتے تھے کہ انھیں برطرف کیاجاسکتا ہے لہذا انھوں نے پہلے ہی ایک ہنگامی منصوبہ تیارکرلیاتھا۔ ’’ستمبرمیں مشرف اس نتیجے پرپہنچے تھے کہ اگر مشرف طاقت ور عہدے پر قائم رہتے ہیں تو یہ اچھا نہیں ہوگا۔ انھیں باہر رکھنے کا ایک اور راستہ یہ ہوسکتا ہے کہ انھیں چیئرمین جوائنٹ چیف آف اسٹاف کے عہدے پر ترقی دے دی جائے۔ اس عہدے کے ماتحت صرف ایک پی اے ہوتا ہے۔ مشرف کو پیغام دینے کیلئےایک شخص کو بھیجا گیا لیکن انھوں نے رد کردیا۔ تب نواز شریف انھیں آرمی چیف قائم رکھنا چاہتے تھے اور انھیں چیئرمین کے عہدے پر بھی ترقی دے دی گئی۔ مشرف نے کہاکہ میں کرسکتاہوں۔ مشرف پر یہ واضح ہوگیاتھاکہ پہلا موقع ملتے ہی انھیں برطرف کردیاجائےگالہذا نھوں نے ایک منصوبہ بنالیاتھا۔‘‘

امریکی نیوی کمانڈوز کی جانب سے اسامہ بن لادن کومارنے کیلئےکیے گئےایبٹ آباد آپریشن پر بات کرتےہوئے سابق ڈی جی آئی ایس آئی نے جنرل (ر) اشفاق پرویز کیانی اور جنرل(ر) احمد شجاع پاشا پر روز دیا کہ اگر آپریشن سے متعقل کوئی ڈیل ہوئی تھی تو اسے منظرعام پرلے آئیں۔ میرانہیں خیال کہ ان کیلئے یا پاشا کیلئےجو اس وقت آئی ایس آئی کے سربراہ تھے خاموش رہنے کی کوئی وجہ ہوسکتی ہے۔ راز کو سامنے لائیں کیونکہ ہر جگہ ہمیں برا کہا جارہاہے۔ ہم پرنالائق ہونےاورڈبل گیم کھیلنے کا الزام لگایاجارہاہےاور ہمیں بدلے میں کیامل رہاہے؟ میں یہ جانناچاہتاہوں۔‘‘ ان کا مانناہے کہ جس نے امریکیوں کو اسامہ بن لادن کے بارے میں معلومات فراہم کیں وہ ایک ریٹائرڈ پاکستانی آفیسر تھا۔ انٹلیجنس میں ایک ریٹائرپاکستانی آفیسر تھا اور اس نے امریکیوں کوبتایا۔ میں اس کا نام نہیں لوں گاکیونکہ میں یہ ثابت نہیں کرسکتااور میں اسے کوئی شہرت نہیں دلاناچاہتا۔ کون جانتا ہے کہ اسے 5کروڑ ڈالرمیں سے کتنا حصہ ملا۔ لیکن وہ پاکستان سےلاپتہ ہے۔

افغانستان میں بھارتی قونصلیٹ کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں جنرل(ر) درانی نے کہاکہ اگربھارتی قونصل خانے استعمال کیے گئے تو ہم خوش ہوں گے۔ وہاں چارقونصل خانے اور ایک سفارتخانہ ہےلیکن ہمیں ان کی تعداد بڑھاچڑھاکرپیش نہیں کرنی چاہیے۔ پاکستان میں کچھ لوگ جن کے پاس درست معلومات نہیں ہیں وہ بعض اوقات 9، 18 یا 23 کے بارے بتاتے ہیں۔ اگر بھارتیوں نےچار قونصل خانوں سےجاسوسی کی تو ہمیں خوش ہوناچاہیے کہ ہم اس کا پتہ لگاسکتے ہیں۔ بہرحال وہاں سے جاسوسی نہیں کی جاتی۔ چندتعمیراتی کمپنیاں یادیو جیسے چند افراد کو بھرتی کرسکتی ہیں۔ اس کا پتہ لگانا مشکل ہے۔ ضروری طورپرہم نے بھارتی اثررسوخ کو بڑھاچڑھا کرپیش کیاہے۔ مجھے سب سے زیادہ پریشانی یادیو کے کیس میں ایرانی پہلو سے ہوتی ہے۔ اس کے باعث پاکستان یہ سوچنے پر مجبور ہوا ہے کہ جب ملا اخترمنصور ایران میں کسی سے ملاقات کرکے واپس آرہاتھا تو ایرانی انٹلیجنس سے اس کی گاڑی میں ایک چپ لگا دی تھی جس سے امریکیوں کو اسے ٹریک کرنے میں مددملی۔ حتٰی کہ اگر یہ سچ بھی ہے تو میں اس کے بارے میں بات نہیں کروں گا۔ اس کے باعث پاکستان اور ایران کے درمیان مسائل پیداہورہے ہیں۔ لیکن بلوچستان سے متعلق جاسوسی ہوتی ہے، لوگ ملوث ہیں۔ دوئم، میں نے ہمیشہ محسوس کیاہے کہ ہم بھارت کے ملوث ہونے کے بارے میں بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں۔ اس سے زیادہ امریکی ملوث ہیں۔ کئی دیگر لوگوں کے پاس ملوث ہونے کی اور بہت سے وجوہات ہیں۔‘‘

مشترکہ کتاب میں منصفین نے زور دیا ہے کہ ہمیں بھی عمومی سوچ سے ہٹ کر خطے کے معاملات کو دیکھنا ہوگا جیسا کہ سابق بھارتی وزیراعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ کہا کرتے تھے کہ جنرل باجوہ کو مدعو کیا جائے اور پھر نتائج دیکھیں۔ مصنفین نے دونوں ممالک کے عوام میں باہمی تعلقات کو بہتر بنانا نسبتاً آسان قرار دیا جس میں ویزے میں نرمی اور کرکٹ کی بحالی شامل ہے۔

جنرل درانی نے کتاب میں مزید لکھا ہے کہ نریندر مودی کی وجہ سے اجیت دوول کی اہمیت آجکل بڑھ رہی ہے کیونکہ بھارتی وزیراعظم تماشہ لگانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جاتے دیتے اور پاک بھارت تعلقات کی بہتری کے لیے دونوں ممالک ان شخصیات پر بھروسہ نہیں کرسکتے۔

آئی ایس آئی سے لیفٹیننٹ جنرل نے لکھا کہ اگر یہ دونوں شخصیات لاہور یا اسلام آباد مین موجود ہوئے تو یہ اقدام بھارت کے مفاد میں تو ہوسکتا ہے مگر یہ پاک بھارت مشترکہ تعلقات کی بحالی کے لیے کچھ اچھا نہ ہوگا۔

پاکستان میں پکڑے جانے والے بھارتی جاسوس کلبھوشن کے بارے میں ایس کے دولت کا کہنا تھا کہ اگر وہ را کا ایجنٹ تھا اور یہ آپریشن را کا تھا تو یہ خاصہ احمقانہ آپریشن تھا۔


جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.