اظہارِ رائے کی مکمل آزادی کا ترجمان

جسٹس (ر) ناصر الملک نے پاکستان کے 7ویں نگراں وزیر اعظم کے عہدے کا حلف اٹھا لیا

سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو توہین عدالت کے جرم میں سزا سنانے والے بنچ کے سربراہ بھی وہی تھے

12

جسٹس (ر) ناصر الملک نے نگراں وزیراعظم کے عہدے کا حلف اٹھالیا جب کہ ان کا کہناہےکہ جس کام کے لیے آئے ہیں اپنی وہ ذمہ داری پوری کریں گے، انتخابات بروقت اور شفاف ہوں گے۔

ایوان صدر میں تقریب حلف برداری میں صدر مملکت ممنون حسین، سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی، چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ، دیگر مسلح افواج کے افسران، چیئرمین سینیٹ، وفاقی کابینہ کے ارکان، چاروں صوبوں کے گورنر اور دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی۔

میرے الفاظ یاد رکھیں، انتخابات مقررہ وقت پر ہونگے: نگراں وزیراعظم

بعد ازاں نگراں وزیر اعظم جسٹس (ر) ناصر الملک کو مسلح افواج کے دستوں سے گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا اور انہوں نے وزیر اعظم ہاؤس میں اہم شخصیات سے ملاقات بھی کی۔

نگراں وزیراعظم کو گاڈ آف آنر پیش کیا جارہاہے

اس موقع پر غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے جسٹس (ر) ناصرالملک کا کہنا تھا کہ شفاف انتخابات اولین ترجیح ہیں اور مینڈیٹ کے مطابق ہی کام کروں گا۔

قبل ازیں سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے اپنے عملے کے لوگوں سے الوداعی ملاقاتیں کی تھیں جبکہ مسلح افواج کی جانب سے انہیں گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ گزشتہ شب رات 12 بجے وفاقی حکومت اپنی 5 سالہ آئینی مدت پوری کرنے کے بعد تحلیل ہوگئی تھی اور شاہد خاقان عباسی بطور اٹھارویں منتخب وزیر اعظم 10 ماہ خدمات انجام دینے کے بعد اپنے عہدے سے سبکدوش ہو گئے تھے۔

اس سے قبل 28 مئی کو سابق وزیر اعظم شاہد خاقان اور سابق اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے مشترکہ طور پر سابق چیف جسٹس (ر) ناصر الملک کو پاکستان کا ساتواں نگراں وزیراعظم نامزد کیا تھا۔


جسٹس (ر) ناصر الملک کون ہیں؟

جسٹس (ر) ناصر الملک 17 اگست 1950 کو صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع سوات میں پیدا ہوئے اور انہوں نے 1972 میں پشاور یونیورسٹی سے ایل ایل بی مکمل کیا۔

1976 میں انہوں نے لندن سے ایل ایل ایم کی ڈگری حاصل کی اور 17 سال تک پشاور ہائی کورٹ میں پریکٹس لائر رہے۔

جسٹس (ر) ناصر الملک نے اپنے عدالتی کیریئر کا آغاز 1994 میں کیا اور 6 جون کو وہ پشاور ہائی کورٹ کے جج مقرر ہوئے اور 2004 تک اسی منصب پر رہے۔

نگراں وزیراعظم کو گاڈ آف آنر پیش کیا جارہاہے

بعد ازاں صوبائی حکومت کی منظوری کے بعد 31 جولائی 2004 کو جسٹس (ر) ناصر الملک پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مقرر ہوئے جبکہ 2005 میں انہیں سپریم کورٹ آف پاکستان منتقل کردیا گیا۔

اس کے علاوہ 30 نومبر 2013 سے 6 جولائی 2014 تک انہوں نے قائم مقام چیف الیکشن کمشنر پاکستان کے فرائض بھی سرانجام دیئے۔

6 جولائی 2014 کو جسٹس (ر) ناصر الملک نے پاکستان کے 22 ویں چیف جسٹس کے عہدے کا حلف اٹھا اور 16 اگست 2015 تک اپنے منصب پر فائز رہے۔

جسٹس ناصرالملک نے نہ صرف 3 نومبر 2007 کے پی سی او کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کیا بلکہ وہ 3 نومبر کی ایمرجنسی کے خلاف حکم امتناع جاری کرنے والے سات رکنی بینچ میں بھی شامل تھے۔

پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھاکر وہ معزول قرار پائے اور ستمبر 2008 میں پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں دوبارہ حلف اٹھا کر جج کے منصب پر بحال ہوئے۔

جسٹس ناصر الملک پی سی او، این آر او اور اٹھارویں ترمیم کے خلاف درخواستوں کی سماعت کرنے والے بینچوں کا حصہ رہے۔

سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو توہین عدالت کے جرم میں سزا سنانے والے بنچ کے سربراہ بھی وہی تھے۔


جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.