اظہارِ رائے کی مکمل آزادی کا ترجمان

این فرینک کی ڈائری کے پوشیدہ اوراق سے فحش لطائف برامد

گذشتہ کئی دہائیوں سے این ہولوکاسٹ کے بارے میں دنیا بھر میں ایک علامت بن چُکی ہیں، ڈائری کے ان صفحات پر 28 ستمبر 1942 میں یہ متن لکھا گیا تھا

24

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

این فرینک کی ڈائری کے وہ دو نئے صفحے شائع کر دیے گئے ہیں جن میں انھوں نے کچھ فحش لطیفے اور سیکس کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا تھا۔

جرمنی کی یہودی لڑکی این فرینک کے ڈائریاں جو کہ انھوں نے نازی جرمنی کے دور میں خفیہ طور پر لکھی تھیں دوسری جنگ عظیم اور ان کے انتقال کے بعد شائع ہوئی تھیں۔ یہ ڈائریاں بعد میں دنیا بھر میں بہت مقبول ہوئیں۔

ان ڈائریوں میں کچھ ایسے صفحات تھے جو پوشیدہ تھے اور اب تک پڑھے نہ جا سکے تھے کیونکہ ان پر ایک اور کاغذ کو گوند لگا کر چپکا دیا گیا تھا۔ غالباً این فرینک ان فحش لطیفوں کو اپنے خاندان سے پوشیدہ رکھنا چاہتی تھیں۔

تاہم صفحات میں پوشیدہ متن دیکھنے کی نئی ٹیکنالوجی کی مدد سے تحقیق کار اب ان کو پڑھنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

ڈائری کے ان صفحات پر 28 ستمبر 1942 میں یہ متن لکھا گیا تھا۔ اس کا مطلب ہے کہ تیرہ برس کی این نے نازیوں کے خوف سے چُھپنے کے چند دن بعد ہی یہ لطیفے لکھے تھے۔

انھوں نے ایک صفحے جس پر بہت کچھ کاٹ پیٹ کی ہوئی تھی لکھا کہ ’میں اس خراب صفحے کو فحش لطیفے لکھنے کیلئے استعمال کروں گی۔‘ پھر انھوں نے جو چند ایک لطیفے انھیں معلوم تھے اس صفحے پر لکھے۔

این فرینک نے چند درجن لائنیں سیکس کی تعلیم کے بارے میں اس انداز سے لکھیں کہ جیسے وہ سیکس پر کچھ لوگوں کے سامنے جنسی کاروبار کرنے والی عورتوں کا ذکر کرتے ہوئے ایک تقریر کررہی ہوں۔ انھوں نے ایک اور تحریر میں ذکر کیا کہ ان عورتوں کے بارے میں اُن کے والد نے اُنھیں بتایا تھا۔

ایمسٹرڈیم میں این فرینک ہاؤس میوزیم سے وابسطہ رونلڈ لیوپولڈ این کے بارے میں کہتے ہیں کہ ’این فرینک جنسیت کے بارے میں ایک خصوصی انداز سے لکھتی ہیں اور وہ کسی بھی بالغ ہوتی ہوئی عام بچی کی طرح اس موضوع کے بارے میں تجسس بھی رکھتی ہیں۔‘

ایسے ہی خیالات کا ذکر ان صفحوں میں پوشیدہ متن کو پڑھنے کی مدد کرنے والے ادارے این آئی او ڈی انسٹیٹیوٹ کے فرینک وین ویر نے بھی کیا ہے۔ یہ انسٹیٹیوٹ ہولوکاسٹ پر تحقیقات کرتا ہے۔

فرینک ویر کہتے ہیں کہ ’اگر کوئی بھی ان صفحوں پر نظر ڈالے گا تو مسکرائے بغیر نہیں رہ سکے گا۔‘

ان لطیفوں سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ این فرینک اپنی تمام تر صلاحیتوں کے باوجود ایک عام سی لڑکی بھی تھیں۔

ان لطیفوں میں سے ایک کچھ ایسا ہے: ’کیا تمھیں معلوم ہے کہ جرمن فوجی لڑکیاں نیدرلینڈ میں کیوں ہیں؟ فوجیوں کے گدّوں کی طرح استعمال کے لیے۔‘

این فرینک میوزیم کے مطابق یہی صرف ایک موقع نہیں تھا جب این نے اس طرح کے لطیفوں کے ذریعے سیکس پر بات کی ہو، جو انھوں نے اپنے گھر یا لوگوں کی آپس میں بات چیت کے دوران سُنے ہوں، یا جب انھوں نے اپنی جنسیت اور ماہواری پر گفتگو کی ہو۔

اس میوزیم نے این کی ڈائری کے ان صفحات کو شائع کرنے کا جواز یوں دیا کہ ان کی یہ ڈائری، جو کہ یونیسکو کے مطابق ایک عالمی ورثہ ہے، ایک خصوصی تعلیمی اہمیت کی حامل بھی ہے۔

میوزیم والوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’ان فحش لطیفوں کی اشاعت سے این کی شخصیت کا تاثر خراب نہیں ہوتا۔‘

’گذشتہ کئی دہائیوں سے این ہولوکاسٹ کے بارے میں دنیا بھر میں ایک علامت بن چُکی ہیں اور این بحثیت ایک لڑکی اس پس منظر میں کہیں گُم ہو گئی تھیں۔‘

’ان صفحوں کے متن کی لفظ بہ لفظ دریافت اُن کے بارے میں ایک تجسس پیدا کرتی ہے، اور کئی پہلوؤں سے اس نوجوان لڑکی کی منظر سے ہٹ جانے والی باتوں کو سامنے لاتی ہے۔‘

این فرینک 5 جولائی 1942 کو اپنے والد کے ایک دفتر میں چُھپ گئی تھیں، یعنی اپنی تیرہویں سالگرہ کے تقریباً ایک مہینے کے بعد جب انھیں ایک ڈائری تحفے میں ملی تھی۔

وہ اپنی ماں اور ایک سہیلی، وان پیل، کے ساتھ اُس وقت تک وہاں چُھپی رہی جب انھیں وہاں سے دو برس بعد ڈھونڈا گیا تھا۔ تاہم یہ اب تک معمہ ہے کہ انھیں وہاں اتنے عرصے کامیابی سے چُھپے رہنے کے بعد کس طرح ڈھونڈا گیا۔

این فرینک کا ایک نازی کیمپ میں 1945 میں انتقال ہوا تھا۔ اُسی برس دوسری جنگ عظیم ختم ہوئی تھی۔ این کے پورے خاندان میں صرف اُن کے والدوہ واحد شخص تھے جو زندہ بچے تھے اور بعد میں انھوں نے ہی این فرینک کی ڈائریوں کو شائع کیا تھا۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.