اظہارِ رائے کی مکمل آزادی کا ترجمان

لحمہ بہ لحمہ تجسُس پیدا کرنے والی ہالی وُوڈ کی 20 ناقابلِ فراموش سسپنس تھرلر فلمیں

کچھ تھرلر فلمیں ایسی ہیں جنھیں دیکھ کر لگتا ہے کہ حقیقت میں آپ کے ساتھ ایسا ہونا ممکن ہے یا یوں کہہ لیں اندر سے ہلا کر رکھ دیتی ہیں۔

11

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

ایک ایسی فلم جس کو دیکھنے کے ساتھ ہی ہر لمحے کے ساتھ تجسس یا سسپنس بڑھتا محسوس ہو، اسے بہترین تھرلر فلم قرار دیا جاتا ہے۔

ایسی ہی کچھ تھرلر فلمیں ایسی ہیں جنھیں دیکھ کر لگتا ہے کہ حقیقت میں آپ کے ساتھ ایسا ہونا ممکن ہے یا یوں کہہ لیں اندر سے ہلا کر رکھ دیتی ہیں۔

تو ایسی ہی چند بہترین سسپنس سے بھرپور فلموں کے بارے میں جانیں، جن کا جادو عرصے تک نہیں اترتا۔


دی سائیلنس آف دی لیمبز، 1991 (The Silence of the Lambs)

ایک ایف بی آئی ایجنٹ ایک سیریل کلر کو پکڑنے کے لیے ایک سابق سیریل کلر سے مدد طلب کرتی ہے، بلی چوہے کے اس کھیل میں ایجنٹ کو سابق سیریل کلر پر اعتماد ہوتا ہے کہ وہ اس کیس کو حل کردے گا، مگر جو کچھ ہوتا ہے وہ توقع کے خلاف ہوتا ہے۔


رئیر ونڈو، 1954 (Rear Window)

جب ایک چلنے پھرنے سے معذور فوٹوگرافر اپنے پڑوسیوں کی جاسوسی کرنے لگتا ہے تو کچھ ایسا ہوتا ہے کہ اس کی زندگی مکمل طور پر بدل کر رہ جاتی ہے کیونکہ اسے لگتا ہے کہ اس کے سامنے والے فلیٹ میں رہنے والے شخص نے اپنی بیوی کو قتل کردیا ہے، اس خیال پر یقین بھی نہیں ہوتا مگر تناﺅ چین بھی نہیں لینے دیتا، اور یہ سب دیکھنے والوں کے اندر بھی بے چینی دوڑا دیتا ہے۔


ورٹیگو، 1958 (Vertigo)

الفریڈ ہچکاک کی ایک اور مسٹری فلم جس میں سان فرانسسکو کے ایک ریٹائر ڈیٹیکو کو اپنے ایک پرانے دوست کی بیوی کی عجیب سرگرمیوں کی تفتیش کے دوران مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔ اسے بھی کلاسیک کا درجہ حاصل ہے جبکہ مسٹری فلموں کے شائقین کی نظر میں تو یہ ہر دور کی سب سے بہترین فلم ہے۔


دی گیم، 1997 (The Game)

ایک ایسے انتہائی امیر شخص کی کہانی ہے جو سان فرانسسکو کا بینکر ہوتا ہے مگر بہت زیادہ تنہا ہوتا ہے یہاں تک کہ اپنی سالگرہ بھی اکیلے مناتا ہے، اس کی 48 ویں سالگرہ پر اس کا طویل عرصے سے غائب بھائی اچانک واپس آتا ہے اور اسے ایک تحفے کے طور پر ایک جگہ کا کارڈ دیتا ہے جہاں جانے پر مرکزی کردار کو عجیب و غریب اور پراسرار واقعات کا سامنا ہوتا ہے جو کہ دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔


مول ہولینڈ ڈرائیو، 2001 (Mulholland Drive)

رائٹر اور ڈائریکٹر ڈیوڈ لنچ کی اس فلم کو بی بی سی نے 21 ویں صدی کی اب تک کی سب سے بہترین فلم قرار دیا ہے، جو ایک ابھرتی ہوئی اداکارہ کی کہانی پر مبنی ہے جو نئی نئی لاس اینجلس آتی ہے جہاں اس کی دوستی بے خوابی کی شکار خاتون سے ہوجاتی ہے، جس کے بعد ایک دلچسپ کہانی کا آغاز ہوتا ہے۔


کیپ فیئر، 1962 (Cape Fear)

جیل سے رہا ہونے والے ریپ کے مجرم اپنے وکیل کے خاندان کو تنگ کرتا ہے کیونکہ اس کا ماننا ہوتا ہے کہ وہ اپنے وکیل کی وجہ سے ہی پکڑا گیا تھا۔ یہ فلم دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کوئی شکاری ہمارے پیچھے لگا ہوا ہے، ولن کی اداکاری اتنی فطری ہے کہ بہادر ترین افراد کو بھی کانپنے پر مجبور کردے، ڈائریکٹر ناظرین کو پوری فلم میں کہانی میں گم رکھتا ہے اور آخر میں ایسا ذہن گھما دینے والا گھونسہ لگتا ہے کہ دیکھنے والا ہل کر رہ جاتا ہے۔


میمینٹو، 2000 (Memento)

اگر تو آپ کو تجسس بڑھانے والی فلمیں پسند ہیں تو یہ کسی تحفے سے کم نہیں مگر اسے دیکھنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ کی پوری توجہ اس پر مرکوز ہے، کیونکہ اس میں دو مختلف سیکونس چلے رہے ہوتے ہیں، ایک بلیک اینڈ وائٹ جس میں ماضی کا احوال ہوتا ہے جبکہ دوسرا کلر سیکونس جو حال سے پیچھے کی جانب جاتا ہے، یہ دونوں سیکونس اختتام پر ملتے ہیں اور صحیح معنوں میں ذہن گھما دینے والی کہانی سامنے آتی ہے۔


سائیکو، 1960 (Psycho)

الفریڈ ہچکاک کی یہ فلم ہوسکتا ہے کافی پرانی لگے مگر اس کی کہانی آپ کو بالکل بھی بیزار نہیں ہونے دے گی بلکہ اس کا اختتام ایسا ہوگا جس کی توقع آپ نے کبھی کی بھی نہیں ہوگی، یہ فلم ایک موٹیل کے گرد گھومتی ہے جہاں ایک لڑکی پہنچ کر غائب ہوتی ہے، جس کے بعد اس کی بہن اور بوائے فرینڈ اس کی تلاش شروع کرتے ہیں جس کے بعد کہانی میں یکے بعد دیگرے غیر متوقع موڑ آنے لگتے ہیں۔


سیون، 1995 (Se7en)

اگر یہ کہا جائے کہ یہ فلم چند بہترین مسٹری اور تھرلر فلموں میں سے ایک ہے تو غلط نہیں ہوگا، جس میں بریڈ پٹ اور مورگن فری مین نے مرکزی کردار کیے ہیں، یہ پولیس کے دو اہلکاروں کی کہانی ہے جو کہ ایک سیریل کلر کی تلاش کررہے ہوتے ہیں، اس فلم کا اختتام ایسے ٹوئیسٹ پر ہوتا ہے جسے آپ طویل عرصے تک بھول نہیں سکیں گے۔


پرائمل فیئر، 1996 (Primal Fear)

یہ ایک عدالتی تھرلر ہے جس میں تجسس و سسپنس عروج پر نظر آتا ہے، یہ ایک ایسے وکیل کی کہانی ہے جو نوجوان کی وکالت کرتا ہے جس پر ایک پادری کو قتل کرنے کا الزام ہوتا ہے اور اس مقدمے کو کوئی وکیل لینے کے لیے تیار نہیں ہوتا کیونکہ بظاہر اس میں ناکامی یقینی نظر آتی ہے۔ مقدمہ جیسے جیسے آگے بڑھتا ہے، چرچ کے تاریک راز سامنے آنے لگتے ہیں اور ایک سادہ کیس اچانک تاریک اور انتہائی خطرناک بن جاتا ہے۔


گون بے بی گون، 2007 (Gone Baby Gone)

جب ایک 4 سالہ بچی اپنے گھر سے غائب ہوجاتی ہے تو پولیس کو اس کیس کو حل کرنے میں کافی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے، جس پر بچی کی آنٹی 2 پرائیویٹ جاسوسوں کی خدمات حاصل کرتی ہے، جن کو اس طرح کے کیسز کی تفتیش کا کوئی خاص تجربہ بھی نہیں ہوتا، مگر متاثرہ خاندان 2 وجوہات کی بناء پر ان کی خدمات چاہتی ہے، ایک تو وہ پولیس والے نہیں اور دوسری وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ بوسٹس کے خطرناک علاقوں سے بخوبی واقف ہوتے ہیں، جیسے جیسے کیس آگے بڑھتا ہے، کہانی کی پیچیدگی بڑھتی چلی جاتی ہے، یہاں تک کہ اختتام چونکا کر رکھ دیتا ہے۔


ایل اے کانفیڈنشنل، 1997 (LA Confidential)

ایک ناول پر مبنی اس فلم میں لاس اینجلس شہر کے پولیس اہلکاروں کی کہانی بیان کی گئی ہے جس میں تجسس، مسٹری اور سپسنس عروج پر ہے جو مختلف قتل کے واقعات کی تحقیقات کرتے ہوئے غیرمتوقع موڑ پر کھڑے ہوجاتے ہیں۔ تینوں پولیس اہلکاروں کا اپنا ایجنڈہ ہوتا ہے جس سے وہ تفتیش کرنا چاہتے ہیں، بلی چوہے کے اس کھیل میں سچ کہیں گم ہوجاتا ہے۔


دی سکستھ سنس، 1999 (The Sixth Sense)

اگر آپ نے اس فلم کو نہیں دیکھا تو ایک بار ضرور دیکھ لیں، جو ہوسکتا ہے کہ شروع سے لے کر آخر تک آپ کو دلچسپ تو لگے مگر اسے بہترین قرار دینا مشکل ہو مگر جب اس کا اختتام ہوتا ہے تو آپ کے لیے یقین کرنا مشکل ہوجاتا ہے کہ آپ نے فلم کی کہانی کو سمجھا بھی تھا یا نہیں، ہم اختتام تو نہیں بتاتے مگر 1999 کی یہ فلم ایک ماہر نفسیات اور بچے کے گرد گھومتی ہے جو مردوں کو دیکھنے اور بات کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔


پریزنرز، 2013 (Prisoners)

جب پولیس کیلر ڈوور نامی شخص کی بیٹی اور دوست کو تلاش کرنے میں ناکام رہتی ہے تو وہ خود انہیں تلاش کرنے کا فیصلہ کرتا ہے۔ یہ تھرلر فلم اپنے دیکھنے والوں کے درمیان کسی بدترین خبر کا تناﺅ پیدا رکھتی ہے جبکہ کہانی اتنی روانی سے آگے بڑھتی ہے کہ دیکھنے والا کھو کر رہ جاتا ہے۔ بہترین اداکاری اور بیک گراﺅنڈ اسکور نے اسے دیکھنے کے لائق فلم بنادیا ہے۔


زوڈک، 2007 (Zodiac)

یہ ایک مسٹری تھرلر فلم ہے جو 1986 کی ایک نان فکشن ناول ہر مبنی ہے، جس میں ایک قاتل زوڈک کی تلاش کو دکھایا گیا ہے جو سان فرانسسکو کے علاقے بے ایریا میں 1960 اور 70 کی دہائی میں قتل کرتا تھا، جس کے دوران وہ خطوط کے ذریعے پولیس پر طنز کرتا۔ اس فلم کی ہدایات ڈیوڈ فنچر نے دیں جبکہ اسکرین پلے جیمز وینڈربیلٹ نے تحریر کیا۔


گون گرل، 2014 (Gone Girl)

یہ کہانی ایک جوڑے کے گرد گھومتی ہے جس میں بیوی اچانک کہیں غائب ہوجاتی ہے اور میڈیا کی توجہ کا مرکز بن جاتی ہے، پولیس اور میڈیا کا شک شوہر پر ہوتا ہے اور یہ سوال کیا جانے لگتا ہے کہ کیا اس نے اپنی بیوی کو قتل کردیا ہے، یہی سے کہانی مختلف پیچ و خم کے ساتھ آگے بڑھتی ہے اور دیکھنے والوں کی توجہ ایک لمحے کے لیے اسکرین سے ہٹنے نہیں دیتی۔


دی پریسٹیج، 2006 (The Prestige)

دو جادوگروں کی ایک دوسرے سے رقابت اتنی زیادہ ہوجاتی ہے کہ وہ اپنے مخالف سے زیادہ بہتر جادوئی کرتب تیار کرنے کے خواہشمند ہوتے ہیں اور ایسا بصری دھوکا دینا چاہتے ہیں جو لوگوں کو دنگ کردے۔ 2006 کی یہ فلم ایک ایسی کہانی ہے جو حقیقت اور اسٹیج کرافٹ کے درمیان موجود لکیر کے حوالے سے سوالات ذہن میں پیدا کرتی ہے، جس کی تلاش میں اسے دیکھنا مجبوری بن جاتا ہے۔


فائٹ کلب، 1999 (Fight Club)

ایک عام شخص کی ملاقات صابن بیچنے والے سیلزمین سے ہوتی ہے اور ان کے درمیان ایک پیچیدہ تعلق اس وقت قائم ہوتا ہے جب وہ ایک دوسرے سے لڑنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ یہ ایک ناول پر بننے والی بہترین فلم ہے جس کو دیکھتے ہوئے وقت گزرنے کا احساس ہی نہیں ہوتا، بظاہر ایک عام سی کہانی تجسس سے کتنی بھرپور ہے، دیکھ کر حیران رہ جائیں گے۔


شٹر آئی لینڈ، 2010 (Shutter Island)

ڈائریکٹر مارٹین اسکورسیز کی یہ سائیکلوجیکل تھرلر فلم لیونارڈو ڈی کیپریو کی بہترین فلموں میں سے ایک ہے جس کی کہانی کے لیے 2003 میں شائع ہونے والے ڈینیس لیہانے کے اسی نام کے ناول کا انتخاب کیا گیا۔ اس فلم میں لیونارڈو نے ایک یو ایس مارشل کا کردار ادا کیا تھا جو شٹر آئی لینڈ کے سائیکاٹرک ادارے کی تفتیش کررہا ہوتا ہے۔


دی یوزول سسپیکٹس، 1995 (The Usual Suspects)

5 مجرموں کی کہانی جنھیں پولیس معمول کی تفتیش کے دوران اکھٹا کرتی ہے اور پھر وہ اکھٹے ہوکر ایک ڈکیتی کا منصوبہ بناتے ہیں اور پولیس کو انہیں روکنا ہوتا ہے۔ کیون اسپائسی کے یادگار کردار نے اسے ہر دور کی بہترین تھرلر فلموں میں سے ایک بنایا تھا، جس کو دیکھتے ہوئے ہر لمحہ یہ اندازہ لگاتے ہوئے گزرتا ہے کہ آگے کیا ہوگا جبکہ پوری فلم کے دوران دیکھنے والا نشست کے کونے پر بیٹھا رہتا ہے اور آنکھیں کہیں اور پھیر نہیں پاتا۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.