اظہارِ رائے کی مکمل آزادی کا ترجمان

انسٹاگرام پر غیر اِخلاقی ڈانس کرنے کے جُرم میں 17 سالہ ایرانی لڑکی گرفتار

سوشل میڈیا پر خواتین کا کہنا تھا کہ جس ملک میں بچوں کے ساتھ ریپ کرنے والوں سمیت دیگر جرائم کے ملزمان آزاد ہوں، اس ملک میں رقص کرنے والی لڑکی کو گرفتار کرنے کی خبر پر لوگ مذاق اڑؑائیں گے

22

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

ایرانی حکومت نے 18 سالہ جمناسٹک کی ماہر مائدہ ھژبری کو غیر مہذب ڈانس کرکے لوگوں کو گمراہ کرنے کے الزام میں گرفتار کرلیا۔

ایرانی حکومت نے نوجوان ڈانسر کو 2 دن قبل ریاستی ٹیلی وژن پر نشر ہونے والے ایک اعترافی بیان کے بعد گرفتار کیا، جس میں مائدہ ھژبری نے اعتراف کیا کہ ان کا رقص غیر مہذب تھا۔

خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ (اے پی) کے مطابق ایران کے سرکاری ٹی وی پر نشر کیے گئے مائدہ ھژبری کے اعترافی بیان میں انہوں نے اپنے رقص کو ملکی روایات اور اخلاق کے خلاف قرار دیا۔

ساتھ ہی ویڈیو میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ رقص کی ویڈیو ریکارڈ کرتے وقت ان کا ہرگز یہ خیال نہیں تھا کہ وہ غیر مہذب طریقے سے ڈانس کریں گی۔

انہوں نے کہا کہ انہوں نے یہ رقص کی ویڈیوانسٹاگرام پر اپنے فالؤرز بڑھانے کی غرض سے ریکارڈ کی۔

مائدہ ھژبری کے اعترافی بیان کے بعد انہیں حراست میں لے لیا گیا، جس کے بعد ایران بھر کی خواتین نے ان سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے اپنی ڈانس کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر کرنا شروع کیں۔

مائدہ ھژبری کی گرفتاری کے بعد جہاں خواتین نے رقص کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر کرنا شروع کیں، وہیں ٹوئٹر پر ’رقص، آزادی، رقص جرم نہیں اور مائدہ ھژبری‘ جیسے ٹرینڈ مقبول ہوگئے۔

18 سالہ ڈانسر کی گرفتاری کے بعد متعدد خواتین نے ٹوئٹر پر اپنی ویڈیوز شیئر کرتے ہوئے مائدہ ھژبری سے اظہار یکجہتی کیا، ساتھ ہی انہوں نے ان کی آزادی کا مطالبہ بھی کیا۔

اپنی ڈانس کی ویڈیوز شیئر کرنے والی ایرانی خواتین کا کہنا تھا کہ ایک نوجوان لڑکی کو خوبصورت ہونے، خوش ہوکر ڈانس کرنے اور اس کے اس عمل کو غیر مہذب قرار دے کر اسے گرفتار کرکے دنیا کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں۔

خواتین کا کہنا تھا کہ جس ملک میں بچوں کے ساتھ ریپ کرنے والوں سمیت دیگر جرائم کے ملزمان آزاد ہوں، اس ملک میں رقص کرنے والی لڑکی کو گرفتار کرنے کی خبر پر لوگ مذاق اڑؑائیں گے۔

خیال رہے کہ جس لڑکی کو غیر مہذب ڈانس کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا، اس نے 2 دن قبل ہی انسٹاگرام پر ایک مغربی طرز کے رقص کی ویڈیو شیئر کی تھی۔

اس ویڈیو میں مائدہ ھژبری کو گھر کے اندر تنگ پینٹ شرٹ اور سر پر ٹوپی پہنے ہوئے ڈانس کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔

ان کی اسی ویڈیو کے بعد انہیں ہزاروں لوگوں نے انسٹاگرام پر فالو کیا۔

مائدہ ھژبری نے اپنے انسٹاگرام پر اس سے قبل بھی رقص کی متعدد ویڈیوز شیئر کر رکھی ہیں۔

مائدہ ھزبری نے مجموعی طور پر انسٹاگرام پر 300 سے زائد ویڈیوز اور تصاویر شیئر کر رکھی ہیں، جن میں سے زیادہ تر رقص کی تصاویر اور ویڈیوز ہیں۔

ایران میں عوامی مقامات پر رقص کرنے کے حوالے سے سخت پابندیاں عائد ہیں، جب کہ خواتین کو غیر محرم مردوں کے سامنے بھی رقص اور کھیلنے کی اجازت نہیں ہے۔

مائدہ ھژبری سے قبل بھی ڈانس کے معاملے پر خواتین کو سزائیں سنائی جا چکی ہیں۔

2014 میں بھی ایک مغربی گانے پر رقص کرنے کے جرم میں ایک خاتون اور مرد کو سزا سنائی گئی تھی۔

حالیہ مہینوں میں ایران میں خواتین کے حوالے سے کچھ نرمیاں سامنے آئی ہیں، تاہم مجموعی طور پر اب بھی وہاں خواتین کے حوالے سے کئی چیزوں پر پابندی عائد ہے۔

A post shared by MahiMaedeh (@maedeh_hozhabri) on

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.