اظہارِ رائے کی مکمل آزادی کا ترجمان

مُلتان کی نوشین بلوچ، پنجاب سے اے این پی کی پہلی اور واحد خاتون امیدوار

نوشین افشاں بلوچ کے مد مقابل دیگر مضبوط امیدواروں میں سب سے زیادہ مضبوط امیدوار پی ٹی آئی کے ملک محمد عامر ڈوگر ہیں

17

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں رواں ماہ 25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات کے دوران141 حلقوں میں مجموعی طور پر 44 سے زائد خواتین میدان میں اتریں گی۔

عام انتخابات میں جنرل نشستوں پر میدان میں اترنے والی خواتین میں اگرچہ آزاد امیدوار بھی ہیں، تاہم ان میں سیاسی جماعتوں کی امیدوار بھی الیکشن لڑتی نظر آئیں گی۔

پنجاب میں جنرل نشست پر انتخاب لڑنے والی 44 سے زائد خواتین میں سے ملتان سے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 155 کی امیدوار نوشین افشاں بلوچ بھی ہیں۔

نوشین افشاں بلوچ جو پیشے کے لحاظ سے وکیل ہیں، انہیں یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ پنجاب سے عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کی جنرل نشست پر رکن اسمبلی کی پہلی اور واحد خاتون امیدوار ہیں۔

انتخابی مہم کے دوران حلقے کے نوجوان ان کے ساتھ نظر آتے ہیں—فوٹو: نوشین بلوچ فیس بک

ملک کے ایک انتہائی اہم حلقے میں مردوں کے مقابلے جنرل نشست پر کھڑی ہونے والی نوشین بلوچ کی خاص بات یہ ہے کہ وہ اپنی انتخابی مہم چلانے کے لیے اپنی محدود ٹیم کے ساتھ حلقے کے ہر گھر میں جاکر لوگوں سے ووٹ مانگتی دکھائی دیتی ہیں۔

نوشین بلوچ وکالت کے پیشے سے وابستہ ہیں—فوٹو: نوشین بلوچ فیس بک

اگرچہ نوشین افشاں بلوچ کے چھوٹے بھائی سردار وسیم خان جتوئی بھی صوبائی اسمبلی کی سیٹ پی پی 275 سے انتخاب لڑ رہے ہیں، تاہم وہ انتخابی مہم کے دوران اپنے بھائی سے زیادہ متحرک دکھائی دیتی ہیں۔

نوشین افشاں بلوچ نہ صرف پیدل چل کر بلکہ کبھی کبھار موٹر سائیکل چلا کر بھی حلقے کا دورہ کرکے لوگوں سے ووت مانگتی نظر آتی ہیں۔

نوشین بلوچ گھر گھر جاکر لوگوں سے ووٹ مانگتی نظر آتی ہیں—فوٹو: نوشین بلوچ فیس بک

نوشین افشاں بلوچ نہ صرف وکیل ہیں بلکہ وہ انسانی حقوق اور کرپشن کے خاتمے سے متعلق کام کرنے والی فلاحی تنظیموں کے ساتھ بھی کام کرتی ہیں۔

علاوہ ازیں نوشین افشاں بلوچ اس وقت بہاا لدین زکریا یونیورسٹی سے انگریزی ادب کی تعلیم بھی حاصل کر رہی ہیں۔

نوشین افشاں بلوچ قومی اسمبلی کے جس حلقے سے انتخاب لڑ رہی ہیں، اس حلقے سے مجموعی طور پر مجموعی طور پر 16 امیدوار میدان میں اتریں گے، جن میں سے افشاں بلوچ واحد خاتون امیدوار ہیں۔

نوشین بلوچ موٹر سائیکل پر بھی اپنے حلقے کا دورہ کرتی ہیں—فوٹو: ٹوئٹر

اس حلقے سے میدان میں اترنے والے امیدواروں میں مسلم لیگ (ن) تحریک انصاف، پاک سر زمین پارٹی، سنی تحریک، لبیک یا رسول اللہ، آل پاکستان مسلم لیگ اور اللہ اکبر تحریک کے امیدوار بھی میدان میں اتریں گے۔

حیران کن طور پر اس حلقے سے پاکستان پیپلز پارٹی کا کوئی بھی امیدوار میدان میں نہیں اترے گا۔

نوشین افشاں بلوچ کے مد مقابل دیگر مضبوط امیدواروں میں سب سے زیادہ مضبوط امیدوار پی ٹی آئی کے ملک محمد عامر ڈوگر ہیں، جنہوں نے 2014 کے ضمنی انتخابات میں ملتان کے حلقے این اے 149 سے منجھے ہوئے سیاستدان جاوید ہاشمی کو شکست دی تھی۔

اگرچہ ملک محمد عامر ڈوگر نے یہ انتخاب آزاد حیثیت میں لڑا تھا، تاہم جیت کے فوری بعد انہوں نے پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کرلی تھی۔

اس بار محمد عامر ڈوگر این اے 155 سے تحریک انصاف کی جانب سے میدان میں اتریں گے۔

ان کے مد مقابل تمام امیدوار مرد ہیں—فوٹو: نوشین بلوچ فیس بک

اس حلقے سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے امیدوار محمد طارق رشید بھی میدان میں اتریں گے۔

اس حلقے سے انتخاب لڑنے والے دیگر امیدواروں میں آزاد امیدوار رانا ندیم احمد، عبدالستار خان ترین، محمد خالد خاکوانی، محمد ہاشم رشید، مظہر عباس، ملک لیاقت علی ڈوگر، اے پی ایم ایل کے سید تقی حیدر شاہ، پاکستان سنی تحریک کے عمران مصطفیٰ کھوکھر، پی ایس پی کے کرامت علی، اللہ اکبر تحریک کے محمد ارشد بھٹی، تحریک لبیک پاکستان کے محمد ایوب اور تحریک لبیک اسلام کے محمد علیم شامل ہیں۔

وہ متعدد سماجی تنظیموں کے ساتھ بھی کام کرتی ہیں—فوٹو: نوشین بلوچ فیس بک

سوہنی دھرتی ایک غیر منافع بخش ادارہ ہے۔ ہماری صحافت کو سرکاری اور کارپوریٹ دباؤ سے آزاد رکھنے کے لیے ہمارے ساتھ  تعاون کیجیے اور ہماری خبروں کو اپنے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.