گھوڑوں کی رپانزل نے سوشل میڈیا پر دھوم مچا دی

اسٹارم کے بال تقریباً نومی جیسے ہی تھے اس لیے نومی اسے دیکھتے ہی فدا ہو گئی تھی۔اسٹارم کے بال دو سال کی عمر سے کاٹے نہیں گئے۔

293

بچوں کی مقبول ترین کہانیوں میں سے ایک کہانی ‘رپانزل’ ہے جس میں ایک لڑکی جو اپنے خوبصورت ، بے انتہا گھنے اور لمبے بالوں کے ساتھ ایک ٹاور میں قید تھی۔وہ لڑکی انھی بالوں کے سہارے لٹک کر آزادی کے چند لمحوں سے لطف اندوز ہو تی تھی۔

ایک وہ ٹاور میں قید اپنے بالوں کی وجہ سے پسندیدہ کہانیوں کی رپانزل تھی اور دوسری یہ سوشل میڈیا کی اسٹار ‘رپانزل’ ہے جو اپنے بالوں کی وجہ سے دنیا میں مشہور ہو گئی ہے۔ نیدرلینڈ کی 8 سالہ گھوڑی ‘اسٹارم’ نے سوشل میڈیا پر طوفان مچا رکھاہے۔اسٹارم کا تعلق گھوڑوں کی نسل ہیفلینگر سے ہے۔

اپنے لمبے بالوں کی وجہ سے اسٹارم سوشل میڈیا نیٹ ورکس خصوصاً انسٹاگرام پر خاصی مشہور ہے۔اسٹارم کی مالکن 24 سالہ طالبہ اور اپنا ذاتی کاروبار کرنے والی نومی بیکرز نے اسٹارم کو اس کے مالک سے 2 سال کی عمر میں خریدا تھا۔

اسٹارم کے بال تقریباً نومی جیسے ہی تھے اس لیے نومی اسے دیکھتے ہی فدا ہو گئی تھی۔اسٹارم کے بال دو سال کی عمر سے کاٹے نہیں گئے۔نومی کے پاس آنے سے پہلے ہی اسٹارم کے انٹرنیٹ پر کئی مداح بن چکے تھے۔

نومی نے اسٹارم کا ایک نیا انسٹاگرام اکاؤنٹ بنایا اور وہ اس وقت حیران رہ گئی جب لوگوں کی طرف سے زبردست ردعمل ملا۔اسٹارم کے اس وقت انسٹا گرام پر 35000 کے قریب فالوورز ہیں جو اسے تصویر شیئرنگ سوشل نیٹ ورک کے مقبول ترین گھوڑوں میں سے ایک بناتے ہیں۔

نومی نے بٹِ میگیزین کو بتا یا کہ ‘میں وقتاً فوقتاً اسٹارم کی کچھ تصاویر پوسٹ کرتی رہنا چاہتی تھی لیکن لوگوں نے خود سے میری اگلی پوسٹ کے بارے میں پوچھنا شروع کر دیا اور یہ مجھے بہت اچھا لگا۔

نومی نے مزید نے بتایا کہ ہیفلینگر گھوڑوں کی نسل اپنے لمبے اور خوبصورت بالوں کی وجہ سے مشہور ہے لیکن اسٹارم کے بال سب سے الگ ہیں۔اسٹارم کے بال اسی وجہ سے کاٹے نہیں گئے۔ صرف حفاظت کیلئے گوندھ دیے جاتے ہیں اور اب اس کے بالوں کی لمبائی ایک میٹر ہے ۔اسی وجہ سے اسٹارم کو پیار سے سب ‘رپانزل’ کہتے ہیں۔


سوہنی دھرتی ایک غیر منافع بخش ادارہ ہے۔ ہماری صحافت کو سرکاری اور کارپوریٹ دباؤ سے آزاد رکھنے کے لیے اس خبر کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں اور خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں ضرور کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More

Privacy & Cookies Policy