کل کے نوری نت آج کے مولاجٹ کے بارئے میں کیا کہتے ہیں؟

’ہماری مولا جٹ غریبانہ تھی لیکن لوگوں نے اس کو امیرانہ کر دیا‘

پاکستانی سوشل میڈیا پر ہدایت کار بلال لاشاری کی نئی فلم، ‘دا لیجنڈ آف مولا جٹ’ کا ٹریلر جاری ہوتے ہی شور مچ گیا۔ جہاں کئی صارفین کو یہ ٹریلر اچھا لگا، وہیں کچھ لوگ اس سے نالاں بھی نظر آئے۔ کئی لوگوں کا خیال تھا کہ مولا جٹ جیسی ’کلاسیک‘ فلم کو ’ری میک‘ کرنا پہلی فلم کی توہین کرنے کے برابر ہو گا۔

لیکن ’اصلی‘ مولا جٹ کی کاسٹ کا اس نئی فلم کے بارے میں کیا خیال ہے؟ بی بی سی اردو کی ہدیٰ اکرام نے نوری نت کا شہرۂ آفاق کردار ادا کرنے والے سینیئر اداکار مصطفی قریشی سے بات چیت کی اور اس نئی فلم کے حوالے سے ان کی رائے جاننے کی کوشش کی۔


’دا لیجنڈ آف مولا جٹ‘ کا ٹریلر آپ نے دیکھا ہوگا، کیسا لگا؟

ٹریلر سے تو میں نے اندازہ لگایا ہے کہ بلال لاشاری نے بہت بڑی فلم بنائی ہے۔ وہ کافی سمجھدار ڈائریکٹر اور پروڈیوسر ہیں اور ظاہر ہے انھوں نے سوچ سمجھ کر بنائی ہے۔ فلم پنجابی میں ہے لیکن مجھے پنجابی والا ماحول نظر نہیں آیا۔

البتہ ہم نے جو فلم بنائی تھی، جو ہماری مولا جٹ تھی، وہ غریبانہ تھی لیکن لوگوں نے اس کو امیرانہ کر دیا اور یہ فلم تو بہرحال اربوں روپے کی ہے۔ میں نے سنا ہے فلم کا بجٹ بہت زیادہ ہے۔

مجھے یہ بھی لگا اس ٹریلر کو دیکھ کر جیسے بھارت کی تامل زبان کی فلم تھی ’باہو بلی‘، وہ ہماری مولا جٹ سے متاثر ہو کر بنائی گئی تھی۔

چار دہائی قبل بننے والی فلم مولا جٹ کا پوسٹر

پاکستان کا مولا جٹ تھا اور بھارت کا باہو بلی تھا لیکن انھوں نے بھی بڑے بڑے سیٹ لگائے تھے اور اس فلم کا بجٹ بھی کافی زیادہ تھا۔

تو مجھے لگتا ہے کہ بلال لاشاری نے اسی کو لے کر۔۔۔ اسی سے متاثر ہو کر آج کی مولا جٹ بنائی اور پھر ارینا تھیٹر کی طرح۔۔۔ جیسے رومن سلطنت کے دور کے بارے میں جو فلمیں بنی ہیں، اس طرز پر بنائی ہے۔ بلاشبہ انھوں نے بڑی اچھی فلم بنائی ہو گی۔۔۔ مجھے اس میں کوئی شک نہیں ہے۔

ہماری مولا جٹ تو خیر ساڑھے چار سال چلی تھی۔ اللہ کرے، میری دعا ہے کہ یہ فلم ساڑھے چار سال کیا دس سال چلے۔

اس دور میں ہماری مولا جٹ نے کروڑوں روپے کی آمدنی حکومتی خزانے میں دی اور مجھے امید ہے کہ یہ مولا جٹ بھی اس سے کئی سو گنا ذیادہ آمدنی پر ٹیکس حکومتی خزانے میں دے گی۔

ان کے لیے میری دعائیں ہیں اور بس میری خواہش ہے کہ فلم کامیاب ہو۔۔۔ یہ مقبول تو ہوگی، کیونکہ اس کا نام مولا جٹ ہے!

مولا جٹ 40 سال پہلے بنی اور گویا یہ لوگ اس سے متاثر ہوئے تو آج 40 سال بعد بھی یہ والی مولا جٹ بنائی، تو یہ کامیابی ہماری مولا جٹ کی ہی ہے۔

نوری نت کا کردار ادا کرنے والے مصطفی قریشی

اپنی کوئی یادیں تازہ ہوئیں؟

میں نے غریبانہ کا لفظ استعمال کیا ہے، کہ ہم نے کوئی کروڑوں روپے کا سیٹ نہیں لگایا تھا۔ ہم نے دیہات میں کام کیا، ہم نے گھوڑوں پر خوب سواری کی اور جو ہمارا ایکشن تھا۔۔۔ پرانے کیمرے تھے، پرانی لائٹس تھیں اور اس کے باوجود اس فلم نے جو بزنس کیا، نہ صرف پاکستان میں بلکہ پوری دنیا میں۔ انڈیا نے بھی اس کی کئی فلمیں بنا ڈالیں۔

میری ایک دفعہ لندن میں دھرمیندر سے ملاقات ہوئی تھی جو انڈیا کے لیجنڈ اداکار ہیں۔ انھوں نے میری دعوت کی تو انھوں نے مجھ سے کہا کہ ’میں نے متاثر ہو کر دو فلمیں بنائیں: ایک پنجابی سے پنجابی میں بلکل اس جیسی فلم بنائی، اس کا نام تھا ’پُت جٹاں دے‘ اور پھر دوسری اردو میں بنائی ’جینے نہیں دوں گا‘۔

لیکن ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ ’ہم نے جھک ماری۔۔۔ ہم نہیں بنا سکے۔‘

میں نے بہرحال دونوں فلمیں دیکھیں اور تعریف بھی کی۔

البتہ اس مولا جٹ کے بارے میں تحفظات ہیں، اس کا اظہار میں یوں کروں گا کہ یہ فلم بہت بڑی ہو گی، بحیثیت ایک فلم بہت اچھی ہو گی۔۔۔ ساؤنڈ افیکٹس کے حوالے سے، فوٹوگرافی کے حوالے سے، کیونکہ جدید ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے اور بلاشبہ پرفارمنس کے حوالے سے بھی۔۔۔

لیکن پھر اسے مولا جٹ نام نہ دیں۔ یہ اس کا کوئی اور نام رکھ دیتے۔

ہو سکتا ہے میں غلط ہوں، مگر جو لوگ فلم دیکھنے جائیں گے، اگر وہ ہماری والی مولا جٹ کو ذہن میں رکھ کر دیکھنے جائیں گے تو ان کو مایوسی ہو گی۔

اس فلم میں حمزہ علی عباسی نے آپ کا، یعنی ’نوری نت‘ کا کردار ادا کیا ہے۔ کیا توقعات ہیں آپ کو ان سے؟

حمزہ علی عباسی بہت اچھا آرٹسٹ ہے۔ لیکن میرا اپنا سٹائل تھا، انھوں نے میرے خیال میں انھوں نے اپنا سٹائل رکھا ہوگا۔

مجھے نہیں پتا اس ٹریلر میں تو مجھے نظر نہیں آیا، لیکن وہ اچھے آرٹسٹ ہیں اور میں ان کی تعریف کروں گا اور میں ان سب کی کامیابی کے لیے دعاگو ہوں۔


اُس فلم میں آپ کا سب سے پسندیدہ ڈائیلاگ کیا تھا؟

دیکھیں میرے ڈائیلاگز تو آج تک کے سیاستدان ایوانوں میں اور ٹاک شوز وغیرہ میں بھی استعمال کرتے ہیں۔

اب یہ بھی دیکھیے کہ ہماری والی مولا جٹ کی کامیابی یہ ہے کہ 40 سال کے بعد بھی جیسے راہی کا وہ ڈائیلاگ ’مولے نوں مولا نہ مارے تے مولا نئیں مر سکدا‘، اور میرے جو ڈائیلاگ تھے۔۔۔ جیسے "نواں آیا اے سوہنیا؟’۔۔۔ اس طرح کے ڈائیلاگز پر لوگوں نے بہت تالیاں بجائیں اور بڑا پسند کیا اور آج تک بھولے نہیں ہیں اس فلم کو۔

میں ایک تجویز دوں گا بلال لاشاری صاحب کو: اس فلم کی ڈبنگ کریں انگریزی میں اور اردو میں اور اسے دنیا میں ریلیز کریں، تو انشااللہ کامیابی ہوگی۔


سوہنی دھرتی ایک غیر منافع بخش ادارہ ہے۔ ہماری صحافت کو سرکاری اور کارپوریٹ دباؤ سے آزاد رکھنے کے لیے اس خبر کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں اور خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں ضرور کریں

ذریعہ بشکریہ: بی بی سی اُردو

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More

Privacy & Cookies Policy