نبی کریم کے بعد سب سے خوبصورت دور حضرت عمرکا دور ہے: چیف جسٹس

'اگر عدلیہ کا ادارہ ناکام رہا تو معاشرہ کبھی ترقی نہیں کر سکتا'

لاہور — چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کا کہنا ہے کہ اگر عدلیہ کا ادارہ ناکام رہا تو معاشرہ کبھی ترقی نہیں کر سکتا، جس معیار کے انصاف کا ادارہ ہونا چاہیے وہ نہیں ہے۔

چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان نے لاہور انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ سائنسز کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بہت سے مواقع پر میں بات کرتا ہوں کہ قوم کیسے ترقی کرتی ہے، میں 3 بنیادی چیزیں دیکھتا ہوں جو قوم بناتی ہیں، جس میں پہلی تعلیم، دوسری بہترین لیڈرشپ اور تیسری چیز انصاف کی فراہمی ہے۔

انہوں نے کہا کہ تعلیم اس کا ایک لازمی جزو ہے، تعلیم کے بغیر سوسائٹی بے کار ہے، پاکستان میں شرح خواندگی بہت کم ہے اور یہاں تعلیم کا نظام کوئی خاص اچھا نہیں ہے.

ان کا کہنا تھا کہ میں ملک کے ہر حصے میں گیا ہوں، بلوچستان کے کئی علاقوں میں اسکول نہیں ہیں اور اگر اسکول ہیں تو ان کی چار دیواری نہیں ہے اور اس میں واش روم نہیں ہیں۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اسکولوں میں وڈیروں کے جانور اور بھوسہ رکھا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کی بہترین ریاست مدینہ کی ریاست ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے خوبصورت دور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا دور ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آپ جو اپنے لیے پسند کرتے ہیں وہی دوسروں کے لیے پسند کریں، ملک کی ترقی کا دوسرا راز بہترین لیڈر شپ ہے اور ترقی کا تیسرا راز انصاف کی فراہمی ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اللہ تعالی کی سب سے بڑی عنایت ہے کہ اس دنیا میں زندگی پیدا کر دی ہے، زندگی صرف زندہ رہنے کا نام نہیں۔

انہوں نے کہا کہ جانوروں، چرند پرند اور نباتات کے حقوق ہیں جبکہ سب سے زیادہ حقوق اللہ تعالی نے انسان کو دیے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر عدلیہ کا ادارہ ناکام رہا تو معاشرہ کبھی ترقی نہیں کر سکتا، جس معیار کا انصاف کا ادارہ ہونا چاہیے وہ موجود نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب کسی شہری کو بنیادی حقوق نہیں ملتے تو پھر سوسائٹی میں اضطراب پیدا ہوتا ہے، جو کچھ آپ کر رہے ہیں وہ دیانت کے ساتھ کرنا چاہیے.

چیف جسٹس نے کہا کہ معاشرے کے ہر فرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنا کردار ادا کرے، اگر ہر شخص اپنے طور پر کردار ادا نہیں کرے گا تو معاشرے کی ترقی نا ممکن ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تعلیم اور صحت کو کاروبار مت بنائیں اور اپنی وفاداری، اپنا علم اور وقت اس ملک کو دیجیے، یہ واقعی ہی بڑے حوصلے کی بات ہے کہ لوگوں پر خرچ کیا جائے۔

انہوں نے اپنے بارے میں کہا کہ میں کیا تھا، میں نے زندگی میں کبھی فرسٹ پوزیشن نہیں لی اور 2 سالوں میں عوام نے مجھے بہت عزت دی ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ میں نے ان ایشوز کو ٹیک اپ کیا جو ضروری تھے، لاہور کا سارا فضلہ دریائے راوی میں ڈالا جا رہا ہے، اس ملک کو کسی کمزور بندے نے نقصان نہیں پہنچایا اور پاکستان کو اس مقام پر لانے والے یہ بڑے لوگ ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہماری ڈیوٹی ہے کہ ایک لاکھ 21 ہزار روپے کے مقروض بچے کے لیے کچھ کر کے جائیں۔


سوہنی دھرتی ایک غیر منافع بخش ادارہ ہے۔ ہماری صحافت کو سرکاری اور کارپوریٹ دباؤ سے آزاد رکھنے کے لیےمالی تعاؤن کے ساتھ  اس خبر کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں اور خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں ضرور کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More

Privacy & Cookies Policy