نیوزی لینڈ کی 2 مساجد میں 49 نمازی سجدوں میں رب کے حضور پیش ہو گئے

پاکستان کے ترجمان دفترِ خارجہ محمد فیصل نے بھی میڈیا پر اس حملے میں 4 پاکستانیوں کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے اور بتایا ہے کہ 5 پاکستانی اس حملے کے بعد لاپتا ہیں۔

45

نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی دو مساجد میں نمازِ جمعہ کے دوران مسلح افراد کی فائرنگ سے 49 افراد ہلاک اور 20 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔

ہلاکتوں کی تعداد کے اعتبار سے نیوزی لینڈ کی تاریخ میں دہشت گردی کا یہ بد ترین اور سب سے بڑا واقعہ ہے۔

نیوزی لینڈ کے پولیس کمشنر مائیک بش نے دونوں حملوں میں 49 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

گزشتہ سے پیوستہ: نیوزی لینڈ: مسجد میں قتل وغارت مچانے والے حملہ آور کون تھا؟

وائس آف امریکہ کے پروگرام ویو 360 میں بات کرتے ہوئے پاکستان ایسوسی ایشن آف کینٹربری نیوزیلینڈ کے صدر کلیم الله نے جو حملے کے بعد اسپتال میں تھے، بتایا کہ اس حملے میں کم از کم تین پاکستانی زخمی ہوئے ہیں جبکہ 5 لاپتہ ہیں۔

پاکستان کے ترجمان دفترِ خارجہ محمد فیصل نے بھی میڈیا پر اس حملے میں 4 پاکستانیوں کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے اور بتایا ہے کہ 5 پاکستانی اس حملے کے نتیجے میں لاپتا ہیں۔

پولیس کمشنر مائیک بش فائرنگ کے بارے میں میڈیا سے بات کر رہے ہیں۔ 15 مارچ 2019

پولیس نے کہا ہے کہ حملے کے بعد تین افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جن میں سے ایک کو ہفتے کو قتل کے الزامات میں عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

وزیرِ اعظم جیسنڈا آرڈرن کا کہنا ہے کہ مسلح افراد نے مساجد پر حملے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کیے گئے۔

انہوں نے واقعے کو دہشت گردی قرار دیتے ہوئے کہا کہ حملوں کے بعد پورے نیوزی لینڈ کے لیے سکیورٹی کو انتہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے اسے ملکی تاریخ کا سیاہ ترین دن قرار دیا۔

نیوزی لیند کے شہر کرائسٹ چرچ میں فائرنگ کا نشانہ بننے والی النور مسجد۔ 15 مارچ 2019

دارالحکومت ویلنگٹن میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے بتایا کہ فائرنگ کرنے والے افراد انتہا پسندانہ نظریات رکھتے ہیں اور وہ پولیس کی واچ لسٹ پر نہیں تھے۔

وزیرِ اعظم نے واقعے کے ذمے داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے عزم کا اظہار کیا اور شہریوں سے اپیل کی کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ہدایات پر پوری طرح عمل کریں۔

آسٹریلیا کے وزیرِ اعظم اسکاٹ موریسن نے تصدیق کی ہے کہ فائرنگ کے الزام میں گرفتار ایک شخص آسٹریلوی شہری ہے جو ان کے بقول "انتہا پسند اور دائیں بازو کا دہشت گرد ہے۔”


نمازِ جمعہ کے دوران فائرنگ

پولیس کا کہنا ہے کہ فائرنگ وسطی کرائسٹ چرچ کی مسجد النور اور اس سے تین کلومیٹر دور لِن وڈ ایونیو پر واقع ایک مسجد میں اس وقت کی گئی جب وہاں جمعے کی نماز ادا کی جا رہی تھی۔

فائرنگ کرنے والے حملہ آور نے ایک مسجد پر حملے کی ویڈیو مبینہ طور پر اپنے جسم پر لگے کیمرے کے ذریعے سوشل میڈیا پر براہِ راست نشر بھی کی۔

ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ حملہ آور گاڑی میں ایک مسجد پہنچا جس کے بعد اس نے مسجد میں داخل ہو کر وہاں موجود نمازیوں پر اندھا دھند گولیاں برسا دیں۔

کئی منٹ تک فائرنگ کرنے کے بعد حملہ آور دوبارہ اپنی گاڑی تک گیا، اپنی رائفل لوڈ کی اور دوبارہ مسجد کے ہال میں جا کر زخمیوں کو گولیوں کا نشانہ بنایا۔

مبینہ حملہ آور نے حملے سے قبل سوشل میڈیا پر ایک پیغام بھی چھوڑا جس میں اس نے تارکینِ وطن کی آمد کو سفید فام افراد کی نسل کشی کے مترادف ٹہرایا ہے۔

عینی شاہدین نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ النور مسجد میں فائرنگ کرنے والا حملہ آور سفید فام تھا جس نے فوجیوں جیسا لباس، ہیلمٹ اور بلٹ پروف جیکٹ پہنی ہوئی تھی۔

پاکستان کی وزارت خارجہ نے اپنی ایک ٹوئٹ میں نیوزی لینڈ میں پاکستانی سفیر کا نمبر شیئر کیا ہے تاکہ پاکستانی شہری نیوزی لینڈ میں مقیم اپنے پیاروں اور دوستوں کے بارے میں معلومات حاصل کر سکیں۔

نیوزی لینڈ کے پولیس کمشنر مائیک بش نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ پولیس نے مساجد کے نزدیک کئی گاڑیوں سے دھماکہ خیز مواد برآمد کیا ہے۔

پولیس نے کہا کہ فی الوقت یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ یہ واردات صرف کرائسٹ چرچ تک ہی محدود تھی اور اس وقت لوگوں کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔


حملہ آور کون تھا؟

حملہ آور جس نے سر پر لگائے گئے کیمرے کی مدد سے النور مسجد میں نمازیوں پر حملے کو فیس بک پر لائیو دیکھایا، اپنے آپ کو اٹھائیس سالہ آسٹریلین برینٹن ٹارنٹ بتایا۔ اس فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ کس طرح النور مسجد کے اندر مرد، عورتوں اور بچوں پر اندھادھند فائرنگ کر رہا ہے۔۔

نیوزی لینڈ کی مسجد پر حملہ کرنے والا برینٹن ٹارنٹ

پولیس نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس انتہائی دردناک فوٹیج کو فارورڈ کرنے سے گریز کریں۔ پولیس نے حملہ آور کا فیس بک اور انسٹاگرام اکاونٹ کو ختم کر دیا ہے اور وہ اس فوٹیج کو ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے۔


حملے کی مبینہ ویڈیو

ایک غیر مصدقہ ویڈیو بھی منظر عام پر آئی ہے جو مبینہ طور پر حملہ آور کی بنائی ہوئی ہے۔ اس میں اسے لوگوں پر فائرنگ کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ تاہم فیس بک نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس ویڈیو کو اپنی سائٹ سے ہٹا رہے ہیں۔

ایک حملہ آور کی جانب سے فیس بک پر ڈالی جانے والی حملے کی لائیو ویڈیو کو اگرچہ ہٹا دیا گیا ہے، لیکن متعدد مختلف اکاؤنٹس سے دوبارہ اپ لوڈ کی جانے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا کہ حملہ آور ایسے ہتھیار گاڑی سے نکالتا ہے جن پر مختلف عبارتیں لکھی ہیں اور اس کے بعد وہ مسجد میں داخل ہو کر نمازیوں پر فائرنگ کرتا ہے۔

حملہ آور نے یقینی بنایا کے کوئی بھی مسجد سے باہر نکلنے نہ پائے۔ اس دوران وہ بھاگنے والے نمازیوں کا پیچھا کرتے ہوئے باہر پارکنگ تک نکل جاتا ہے اور ان پر گولیاں چلا کر دوبارہ مسجد میں آ کر بھاگنے کی کوشش کرنے والے زخمیوں پر دوبارہ گولیاں چلاتا ہے۔

ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ حملہ آور تین مرتبہ مسجد میں آیا اور آخری چکر میں اس نے ایک ایک شخص کے قریب جا کر ان پر متعدد بار گولیاں چلا کر ان کی موت کو یقینی بنایا۔


مساجد بند، لوگوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت

واقعے کے بعد پولیس نے نیوزی لینڈ کی تمام مساجد بند کردی ہیں اور لوگوں کو مساجد سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔

واقعے کے بعد سے کرائسٹ چرچ میں سکیورٹی انتہائی سخت ہے اور شہر کی سڑکوں پر پولیس کی بھاری نفری گشت کر رہی ہے۔

فائرنگ کے واقعے کے بعد نیوزی لینڈ میں سیکورٹی انتہائی سخت کر دی گئی ہے۔ 15 مارچ 2019

پولیس نے شہر کے تمام اسکول اور سرکاری عمارتیں خالی کرالی ہیں اور لوگوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کی ہے۔

نیوزی لینڈ میں مسلمانوں کی آبادی کی شرح 2013ء کی مردم شماری کے مطابق ایک فی صد سے کچھ ہی زیادہ ہے۔ ملک میں 50 ہزار کے لگ بھگ مسلمان آباد ہیں جن میں اکثریت دوسرے ملکوں سے آنے والے تارکینِ وطن کی ہے۔

وزیرِ اعظم آرڈرن نے بھی کہا ہے کہ قوی امکان ہے کہ حملے میں ہلاک ہونے والوں کی زیادہ تعداد تارکینِ وطن اور پناہ گزینوں کی ہو سکتی ہے۔

نیوزی لینڈ میں پرتشدد جرائم اور فائرنگ کے واقعات کی شرح بہت کم ہے اور دہشت گردی کے اتنے بڑے واقعے اور ہلاکتوں نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کرائسٹ چرچ کی مساجد پر فائرنگ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس ہولناک واقعہ پر، جس میں 49 افراد ہلاک اور بہت سے شدید زخمی ہوئے، ان کی ہمدریاں نیوزی لینڈ کے عوام کے ساتھ ہیں اور امریکہ اس موقع پر نیوزی لینڈ کے ساتھ کھڑا ہے۔


بنگلہ دیشی ٹیم بال بال بچ گئی

فائرنگ کا واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب بنگلہ دیش کی کرکٹ ٹیم کرائسٹ چرچ میں موجود تھی جس کے کھلاڑی نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے لیے النور مسجد جا رہے تھے۔

ٹیم کے نائب کوچ نے خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کو بتایا ہے کہ ٹیم کی بس مسجد کے باہر رکی ہی تھی جب وہاں فائرنگ شروع ہو گئی۔ فائرنگ کی آواز سنتے ہی ڈرائیور بس کو لے کر وہاں سے نکل گیا۔ کوچ نے بتایا کہ واقعے میں تمام کھلاڑی محفوظ رہے ہیں۔

بنگلہ دیش اور نیوزی لینڈ کے درمیان تیسرا ٹیسٹ ہفتے سے کرائسٹ چرچ میں ہونا تھا۔ لیکن فائرنگ کے واقعے کے بعد دونوں بورڈز کی انتظامیہ نے باہمی مشاورت سے بنگلہ دیشی ٹیم کا جاری دورہ منسوخ کر دیا ہے۔


سوہنی دھرتی ایک غیر منافع بخش ادارہ ہے۔ ہماری صحافت کو سرکاری اور کارپوریٹ دباؤ سے آزاد رکھنے کے لیےمالی تعاؤن کے ساتھ  اس خبر کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں اور خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں ضرور کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More

Privacy & Cookies Policy