آئی ایس آئی کے سابق افسر اسد منیر کی خود کشی

مبینہ خط میں نیب کو موت کا ذمہ دار قرار دیا

پاکستان کے اہم ترین خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سابق افسر اور بعد میں کیپیٹل ڈیویلپمنٹ اتھارٹی سے منسلک سابق بریگیڈئیر اسد منیر نے اسلام آباد میں خود کشی کر لی ہے۔

پولیس کے مطابق بریگیڈیر ریٹائرڈ اسد منیر کی لاش جمعے کی صبح اسلام آباد کے حساس علاقے ‘ڈپلو میٹک انکلیو’ میں واقع ان کی رہائش گاہ سے ملی ہے۔

اسد منیر کی موت کی خبر سب سے پہلے ان کے بھائی خالد منیر نے صبح کو ٹویٹ کے ذریعے کی۔ بعد میں اسد منیر کی صاحبزادی اور سماجی کارکن مینا گبینہ نے بھی ٹویٹ کرتے ہوئے جنازے کا مقام اور وقت لکھا مگر موت کی وجہ کے بارے میں کوئی بیان نہیں دیا۔

اسد منیر کی صاحبزادی اور سماجی کارکن مینا گبینہ کی ٹویٹ

لاش کو اسلام آباد کے پمز اسپتال منتقل کیا گیا تھا جسے قانونی کارروائی کے بعد ان کے ورثا کے حوالے کردیا گیا ہے۔

پمز اسپتال کے ترجمان ڈاکٹر وسیم خواجہ کے مطابق اسد منیر کے لواحقین نے ان کی لاش کے پوسٹ مارٹم کی اجازت نہیں دی۔

پمز اسپتال میں موجود بریگیڈیر اسد منیر کے بیٹے علم دار اسد نے صحافیوں کے استفسار پر جواب دیا کہ انہیں نہیں پتا کیا معاملہ ہے۔ ان کے بقول انہیں والد کی موت کا آج صبح ہی پتہ چلا۔

اسد منیر ماضی میں آئی ایس آئی کے علاوہ ملٹری انٹیلیجنس سے بھی منسلک تھے اور ریٹائرمنٹ کے بعد وہ ٹی وی پر بطور تجزیہ کار فرائض سر انجام دیتے تھے اور کالم نویس بھی تھے۔

اس کے علاوہ اسد منیر ٹوئٹر بہت باقاعدگی سے استعمال کرتے تھے اور اکثر اپنے تجزیے لکھتے تھے۔

اسد منیر کی موت پر پاکستان پیپلز پارٹی کے صدر بلاول بھٹو زرداری نے تعزیتی کلمات ٹویٹ کیے لیکن حکومت یا نیب کی جانب سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔


‘خودکشی کیوں کی؟’

اسد منیر کے احباب کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف قومی احتساب بیورو (نیب) نے ایک روز قبل ہی تحقیقات کی منظوری دی تھی جس پر وہ بہت پریشان تھے۔ نیب نے ان پر اسلام آباد کے علاقے ایف-11 میں ایک پلاٹ کی غیر قانونی منتقلی کا الزام لگایا تھا۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لاش کے ساتھ ایک ٹائپ شدہ تحریر بھی ملی ہے جو اسد منیر کی جانب سے چیف جسٹس آف پاکستان کے نام لکھا گیا ایک خط ہے۔

اسد منیر کا ایک خط سوشل میڈیا پر شئیر کیا جا رہا ہے جس میں انھوں نے قومی احتساب بیورو کی جانب سے ان کے خلاف کی جانے والی کاروائی کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ ‘میں اس لیے خود کشی کر رہا ہوں تاکہ میں ہتھکڑیاں لگانے اور میڈیا کے سامنے بےعزت ہونے سے بچ سکوں اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ نیب افسران کے رویے کا نوٹس لیں۔’

مبینہ طور پر اسد منیر کی جانب سے لکھا گیا خط جس میں انھوں نے نیب کو اپنی خود کشی کا ذمہ دار قرار دیا ہے

مبینہ خط سوشل میڈیا پر بھی گردش کر رہا ہے جس کے درست ہونے کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

اس مبینہ خط میں اسد منیر کا کہنا ہے کہ 2008ء میں ایف الیون کا ایک پلاٹ اسلام آباد کے منتظم ادارے ‘سی ڈی اے’ کے چیئرمین نے ری اسٹور کیا تھا۔

خط کے مطابق وہ 2006ء سے 2010ء تک سی ڈے اے کے ممبر اسٹیٹ رہے۔ اور سال 2017ء کے بعد سے نیب نے ان کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے۔

خط میں اسد منیر نے کہا ہے کہ میرا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں رکھا گیا، نیب کی جانب سے میرے خلاف تین مقدمات میں تحقیقات اور دو انکوائریاں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے لکھا ہے کہ میں نیب راولپنڈی میں ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل، اسپیشل انویسٹی گیشن ونگ رہا۔ لیکن میرے کیس کے انویسٹی گیشن افسران غیر تربیت یافتہ اور نا اہل ہیں۔

مبینہ خط میں اسد منیر نے لکھا ہے کہ میں ہتھکڑی میں میڈیا کے سامنے ذلیل ہونے سے بچنے کے لیے خود کشی کر رہا ہوں۔ میں اپنی زندگی کی قربانی دے رہا ہوں۔ اس امید کے ساتھ کہ چیف جسٹس سسٹم میں بہتری لائیں گے جہاں نیب کے کچھ افسران لوگوں کی عزت اور زندگیوں سے کھیل رہے ہیں۔

بریگیڈیر ریٹائرڈ اسد منیر پاکستانی فوج کے انٹیلی جنس ادارے ‘ملٹری انٹیلی جنس’ (ایم آئی) کے اعلیٰ افسر رہے تھے۔ فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد سابق صدر مشرف کے دور میں انہیں اسلام آباد کے وفاقی ترقیاتی ادارے میں ممبر اسٹیٹ تعینات کیا گیا تھا۔

نیب نے گزشتہ روز ہی ان کے خلاف ایک پلاٹ کی الاٹمنٹ کے الزام میں ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی تھی۔

اطلاعات کے مطابق اسد منیر کی لاش کے ساتھ ملنے والا مبینہ خط ان کے اہلِ خانہ کے پاس ہے اور پولیس افسران نے اس خط کی سچائی جاننے کے لیے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) سے رجوع کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

بریگیڈیر اسد منیر اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد سے سے مختلف ملکی اور غیر ملکی اخبارات اور جرائد میں مضامین تحریر کر رہے تھے جب کہ وہ ٹی وی کے مختلف پروگراموں میں بھی دفاعی تجزیہ کار کے طور پر آتے رہتے تھے۔


سوہنی دھرتی ایک غیر منافع بخش ادارہ ہے۔ ہماری صحافت کو سرکاری اور کارپوریٹ دباؤ سے آزاد رکھنے کے لیےمالی تعاؤن کے ساتھ  اس خبر کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں اور خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں ضرور کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More

Privacy & Cookies Policy