نیوزی لینڈ: مسجد میں قتل وغارت مچانے والے حملہ آور کون تھا؟

مبینہ قاتل نے ٹویٹر پر اپنا تعارف "برنٹن ٹرنٹ" کے نام سے کرایا ہے

جمعہ کے روز نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی النور مسجد میں اندھا دھند فائرنگ کرنے والے مشتبہ شخص کے بارے میں میڈیا نے بعض تفصیلات جاری کی ہیں۔ واقعے میں 40

نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی دو مساجد پرحملہ کرنے والے مسلح شخص سے متعلق آسٹریلوی نشریاتی ادارے نے انکشاف کیا ہے کہ برینٹن ٹیرنٹ آسٹریلیا کے جم میں ٹرینر رہ چکا ہے۔

آسٹریلیا کے سرکاری نشریاتی ادارے آسٹریلین براڈ کاسٹنگ کارپوریشن کی رپورٹ کے مطابق حملہ آور برینٹن ٹیرنٹ نے آسٹریلوی ریاست نیو ساؤتھ ویلز کے شہر گرافٹن میں واقع ’ بگ ریور جم ‘میں ٹرینر کے طور پر کام کیا تھا۔

جم کی منیجر ٹریسی گرے نے اس بات کی تصدیق کی کہ حملے کی ویڈیو بنانے اور سوشل میڈیا پر لائیو اسٹریم کرنے والے مسلح حملہ آور کا نام برینٹن ٹیرنٹ ہے۔

انہوں نے کہا کہ برینٹن نے 2009 سے 2011 تک ان کے جم میں کام کیا جس کے بعد وہ ایشیا اور یورپ کے سفر پر روانہ ہوگیا تھا۔

ٹریسی گرے نے کہا کہ ’برینٹن ٹیرنٹ ایک بہت اچھا پرسنل ٹرینر تھا‘۔

جم منیجر نے بتایا کہ ’ اس نے ہمارے ایک پروگرام میں بھی کام کیا جس میں بچوں کو مفت ٹریننگ دی جاتی اور وہ اس کے لیے انتہائی پرعزم تھا‘۔

ٹریسی گرے کا کہنا تھا کہ انہیں کبھی ایسا نہیں محسوس ہوا کہ برینٹن ٹیرنٹ کو ہتھیاروں میں دلچسپی ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میں سمجھتی ہوں کہ گزشتہ سالوں میں بیرون ملک سفر کے دوران کسی چیز کی وجہ سے برینٹن میں یہ تبدیلی آئی ہوگی‘۔

ٹریسی گرے نے یہ بھی بتایا کہ برینٹن کے ہائی اسکول میں تعلیم مکمل کرنے سے قبل اس کے والد روڈنی ایزبیسٹوس سے متعلق بیماری کا شکار ہوکر جاں بحق ہوگئے تھے۔

ان کا ماننا ہے کہ برینٹن کی والدہ اور بہن تاحیات ہیں۔

ٹریسی گرے نے کہا کہ ’ وہ بہت اچھے تھے اور ٹریننگ سے بہت واقف تھے‘۔

جم منیجر کا کہنا تھا کہ برینٹن ٹیرنٹ ہر لحاظ سے ایک بہترین فٹنس انسٹرکٹر تھا جو لوگوں کی مدد کرنے کی زیادہ سے زیادہ کوشش کرتا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ میں نہیں مان سکتی کہ ایک ایسا شخص، جس کے ساتھ میں نے بات چیت کی، کام کیا وہ ایسا انتہائی قدم اٹھاسکتا ہوگا‘۔

گزشتہ سے پیوستہ: ’میں دعا کر رہا تھا کہ اس کی گولیاں ختم ہو جائیں‘

اس کے علاوہ حملہ آور سے متعلق کہا جارہا ہے کہ وہ یورپ، جنوب مشرقی ایشیا اور مشرقی ایشیا کا دورہ کرچکا ہے۔

حملہ آور بیرون ملک سفر کے دوران شمالی کوریا بھی گیا جہاں سامجیون گراؤنڈ مونومینٹ میں ٹور گروپ کے ساتھ اس کی تصاویر بھی موجود ہیں۔

اسی رپورٹ میں 1990 میں لی گئی ایک خاندانی تصویر بھی شامل ہے جس سے متعلق کہا گیا ہے کہ برینٹن اپنے والد روڈنی کی گود میں موجود ہیں، روڈنی کی اہلیہ اور بیٹی بھی ان کے برابر کھڑی ہیں۔

حملہ آور کے بچپن کی تصویر— فوٹو: اے بی سی

حملہ آور نے بتایا تھا کہ بٹ کنیکٹ سے پیسہ کمانے سے قبل اس نے مختصر عرصے کے لیے کام کیا، جس کے بعد اس رقم کو اپنے سفر کے اخراجات پورے کرنے کے لیے استعمال کیا۔

برینٹن ٹیرنٹ نے خود کو آسٹریلیا میں پیدا ہونے والے ایک عام خاندان سے تعلق رکھنے والا سفید فام شخص ظاہر کیا تھا جس کا تعلق ’ کم آمدن والے، تنخواہ دار طبقے ‘ سے تھا۔

مقامی اخبار ڈیلی ایگزیمنر میں اگست 2010 میں شائع ہونے والی روڈنی ٹیرنٹ کی موت کی خبر میں بتایا گیا تھا کہ ان کی موت اپریل 2010 میں 49 برس کی کینسر سے ہوئی۔

برینٹن ٹیرنٹ کو جسمانی فٹنس میں دلچسپی اپنے والد سے وراثت میں ملی تھی۔

دعویٰ کیا گیا ہے کہ حملہ آور کی یہ تصویر 2018 میں پاکستان کے کسی مقام میں لی گئی تھی— فوٹو: اے بی سی

آسٹریلین براڈ کاسٹنگ کارپوریشن (اے بی سی) کی رپورٹ میں شائع کی گئی تصویر میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ برینٹن ٹیرنٹ کی یہ تصویر 2018 میں پاکستان کے کسی مقام میں لی گئی تھی۔

سڈنی مارننگ ہیرالڈ کی رپورٹ کے مطابق ٹریسی گرے نے بتایا کہ گزشتہ برس فیس بک پر بھیجے گئے پیغام میں برینٹن ٹیرنٹ نے پاکستان کے دورے کا احوال بتایا تھا کہ ’ یہ دنیا کے سب سے زیادہ مہمان نواز اور رحم دل افراد سے بھر پور حیران کن مقام ہے‘۔

حملہ آور نے کہا تھا کہ ’ خزاں میں وادی ہنزہ اور نگر کی خوبصورتی کو مات نہیں دی جاسکتی‘۔

سوشل میڈیا پر بھی مبینہ قاتل کی بعض تصاویر گردش میں آئی ہیں جن میں وہ اپنے ہتھیاروں کے ساتھ نظر آ رہا ہے۔ ہتھیاروں پر بعض نام تحریر کیے گئے ہیں جن کے بارے میں ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ ان افراد نے "بعض حملوں کا ارتکاب کیا”ـ

برطانوی اخبار "ڈیلی میل” کے مطابق مسجد میں قتل و غارت مچانے والا مبینہ حملہ آور 28 سالہ نوجوان ہے جو آسٹریلوی شہریت رکھتا ہے۔ اس نے مسجد میں داخل ہو کر چاروں طرف گولیاں برسائیں جس کے نتیجے میں مسجد میں موجود درجنوں افراد شہید اور زخمی ہو گئے جن میں بچے بھی شامل ہیں۔

اخبار نے عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا کہ انہوں نے النور مسجد کے واقعے کے دوران 50 سے زیادہ گولیاں چلائے جانے کی آوازیں سنیں۔

مبینہ قاتل نے ٹویٹر پر اپنا تعارف "برنٹن ٹرنٹ” کے نام سے کرایا ہے۔ اس نے نماز جمعہ کے وقت مسجد کے اندر وحشیانہ فائرنگ کی پوری کارروائی کی وڈیو براہ راست سوشل میڈیا پر نشر کی۔ قاتل نے واقعے سے قبل ٹویٹر پر 87 صفحات پر مشتمل ایک بیان بھی پوسٹ کیا ہے جس میں ایک "دہشت گرد حملے” کی دھمکی دی گئی۔

ٹویٹر پر زیر گردش تصاویر میں حملہ آور کی گاڑی کی پُشت میں موجود خودکار ہتھیار نظر آ رہے ہیں۔

آسٹریلیا کے وزیر اعظم سکاٹ موریسن نے نیوزی لینڈ کی مسجد پر حملہ کرنے والے شخص برینٹن ٹارنٹ کو دائیں بازو کا ایک دہشت گرد قرار دیا ہے۔

نیوزی لینڈ کے پولیس کمشنر نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ نیوزی لینڈ اور آسٹریلوی پولیس یا سکیورٹی اداروں کے پاس اس شخص کے بارے میں کوئی تفصیلات یااطلاعات نہیں تھیں۔

نیوزی لینڈ کی پولیس کا کہنا ہے کہ اس حملے کے سلسلے میں پولیس نے ایک گھر پر چھاپہ مارا ہے۔ملک کی وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ یہ واضح طور پر ایک دہشت گرد حملہ ہے۔اپنی ایک ٹوئٹ میں انہوں نے کہا کہ کرائسٹ چرچ کی مساجد میں جو بھی ہوا ہے وہ ایک نا قابلِ قبول عمل ہے اور ایسے واقعات کی نیوزی لینڈ میں کوئی جگہ نہیں ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ جو لوگ اس حملے میں متاثر ہوئے ہیں وہ ہمارے اپنے ہیں اور نیوزی لینڈ ان کا اپنا ملک ہے۔

حملہ آور کی کار میں وہ نغمہ چل رہا تھا جسے یوسنیا جنگ میں سرب قوم پرست ترانے کے طور پر بجاتے تھے۔

اس نغمے میں سرب لیڈر رادوان کرادوچ کی شان میں قصیدے گائے جاتے ہیں۔ رادون کرادوچ اب جنگی جرائم کی پاداش میں سزا پا چکے ہیں۔


سوہنی دھرتی ایک غیر منافع بخش ادارہ ہے۔ ہماری صحافت کو سرکاری اور کارپوریٹ دباؤ سے آزاد رکھنے کے لیےمالی تعاؤن کے ساتھ  اس خبر کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں اور خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں ضرور کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More

Privacy & Cookies Policy