’میں دعا کر رہا تھا کہ اس کی گولیاں ختم ہو جائیں‘

حملہ آور نے مسجد میں مردوں کے نماز پڑھنے کی جگہ کو نشانہ بنایا اور پھر عورتوں کے نماز پڑھنے کی جگہ بڑھ گیا

نیوزی لینڈ کی مساجد میں حملوں کی تفصیلات منظر عام پر آنے کے ساتھ زندہ بچ جانے والے افراد ہیبت ناک واقعے کی تفصیلات بیان کر رہے ہیں۔

نمازیوں پر فائرنگ کے واقعے کا آغاز اس وقت ہوا جب گہرے رنگ کے کپڑے پہنے ایک حملہ آور جمعے کو کرائسٹ چرچ میں واقع النور مسجد میں داخل ہوا اور اس نے فائرنگ کرنا شروع کر دی۔ اس وقت مسجد کے اندر جمعے کی نماز پڑھی جا رہی تھی۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ گولیوں کی آواز سن کر وہ اپنی جان بچانے کے لیے دوڑے۔

گزشتہ سے پیوستہ: نیوزی لینڈ کی 2 مساجد میں 49 نمازی سجدوں میں رب کے حضور پیش ہو گئے

خون آلودہ کپڑوں میں ملبوس بچ جانے والے شخص نے اپنا نام نہ بتانے کی شرط پر مقامی میڈیا کو بتایا کہ انھوں نے حملہ آور کو ایک آدمی کے سینے پر فائر کرتے دیکھا۔

عینی شاہد کا کہنا تھا کہ فائرنگ تقریباً 20 منٹ تک جاری رہی اور 60 کے لگ بھگ لوگ زخمی ہوئے۔

انھوں نے نشریاتی ادارے ٹی وی این زی کو بتایا ’میں نے سوچا کہ یقیناً اس کی گولیاں ختم ہو جائیں گی۔ میں صرف انتظار اور دعا کر رہا تھا کہ خدارا اس شخص کی گولیاں ختم ہو جائیں۔‘

REUTERS

رپورٹ کے مطابق حملہ آور نے مسجد میں مردوں کے نماز پڑھنے کی جگہ کو نشانہ بنایا اور پھر عورتوں کے نماز پڑھنے کی جگہ بڑھ گیا۔

عینی شاہد کا کہنا تھا ’وہ اس طرف آیا، اس نے اس طرف گولیاں برسائیں، وہ دوسرے کمرے میں گیا اور عورتوں کی نماز کی جگہ کی طرف بڑھ گیا اور انھیں نشانہ بنایا۔ میں نے ابھی سنا کہ ایک عورت کی موت واقع ہو گئی۔‘

’میرا بھائی وہاں پر ہے اور مجھے معلوم نہیں ہے کہ وہ محفوظ ہے یا نہیں۔‘

’وہ کسی کو زندہ نہیں چھوڑنا چاہتا تھا۔‘

REUTERS

ویل چیئر پر بچ جانے والے شخص فرید احمد کہتے ہیں کہ انھیں معلوم نہیں کہ ان کی بیوی زندہ بچیں یا نہیں۔

انھوں نے ٹی وی این زی کو بتایا ’میں نے راہداری سے اس کمرے تک دیکھا جہاں میں کھڑا تھا۔ ایک شخص اس کمرے میں آنے کی کوشش کر رہا تھا اور اسے پیچھے سے گولی لگی اور وہ وہیں مر گیا۔‘

`میں نے زمین پر پڑے کئی سو گولیوں کے خول دیکھے۔`

گزشتہ سے پیوستہ: نیوزی لینڈ: مسجد میں قتل وغارت مچانے والے حملہ آور کون تھا؟

لِن وُڈ مسجد میں بچ جانے والے افراد نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حملہ آور نے کالے رنگ کا موٹرسائیکل ہیلمٹ پہن رکھا تھا اور اس نے تقریباً 100 نمازیوں پر گولیاں برسانا شروع کر دیا۔

یہ حملہ النور مسجد پر حملے کے تھوڑی دیر بعد ہوا۔

عینی شاہد سید احمد نے stuff.co.nz کو بتایا کہ حملہ آور فائرنگ کرتے ہوئے کچھ چیخ رہا تھا۔

انھوں نے اپنے دو دوستوں سمیت کم از کم آٹھ افراد کو مرتے دیکھا۔


سوہنی دھرتی ایک غیر منافع بخش ادارہ ہے۔ ہماری صحافت کو سرکاری اور کارپوریٹ دباؤ سے آزاد رکھنے کے لیےمالی تعاؤن کے ساتھ  اس خبر کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں اور خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں ضرور کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More

Privacy & Cookies Policy